شیطاؔ ن بنا۔ یہ تمام اشارات اس اپنی تمام زندگی کی طرف کرتا ہے جو بزدلی اور زنانہ خصلت اور ناپاکی اور درندگی اور وحشیانہ حالت اور عیاشی اور شکم پرستی اور توہمات سے بھری ہوئی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ اس زمانہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جبکہ وہ وید کا پیروتھا کیونکہ وہ وید کے ترک کرنے کے بعد کبھی اس بات کی طرف اشارہ نہیں کرتا کہ پھر بھی کوئی حصہ گندی زندگی کا اس کے اندر رہا تھا بلکہ اس کے بعد اس نے بڑے بڑے دعوے کئے اور کہا کہ وہ خدا کا مظہر ہوگیا اور نروان کو پاگیا۔ بُدھ نے یہ بھی کہا ہے کہ جب انسان دوزخ کے اعمال لے کر دنیا سے جاتا ہے تو وہ دوزخ میں ڈالا جاتا ہے اور دوزخ کے سپاہی اس کو کھینچ کر دوزخ کے بادشاہ کی طرف اس کو لے جاتے ہیں اور اُس بادشاہ کا نام یمہ ہے اور پھر اس دوزخی سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تو نے ان پانچ رسولوں کو نہیں دیکھا تھا جو تیرے آگاہ کرنے کے لئے بھیجے گئے تھے۔ اور وہ یہ ہیں۔ بچپن کا زمانہ۔ بڑھاپے کا زمانہ۔ بیماری۔ مجرم ہوکر دنیا میں سزا پالینا جو آخرت کی سزا پر ایک دلیل ہے۔ مردوں کی لاشیں جو دنیا کی بے ثباتی ظاہر کرتی ہیں۔ مجرم جواب دیتا ہے کہ جناب میں نے اپنی بیوقوفی کے سبب ان تمام باتوں پر کچھ بھی غور نہ کی۔ تب دوزخ کے موکل اس کو کھینچ کر عذاب کے مقام پر لے جائیں گے اور لوہے کی زنجیروں کے ساتھ جو آگ سے اس قدر گرم کئے ہوئے ہوں گے کہ آگ کی طرح سرخ ہوں گے باندھ دئیے جائیں گے اور نیز بُدھ کہتا ہے کہ دوزخ میں کئی طبقے ہیں جن میں مختلف قسم کے گنہ گار ڈالے جائیں گے۔ غرض یہ تمام تعلیمیں بآواز بلند پکار رہی ہیں کہ بُدھ مذہب نے حضرت مسیح کے فیض صحبت سے کچھ حاصل کیا ہے۔ لیکن ہم اس جگہ اس سے زیادہ طول دینا پسند نہیں کرتے اور اس فصل کو اسی جگہ ختم کردیتے ہیں کیونکہ جبکہ بُدھ مذہب کی کتابوں میں صریح طور پر حضرت مسیح کے اس ملک میں آنے کے لئے پیشگوئی لکھی