وہ ؔ جو اس روشنی سے حصہ لے۔ اور کیا ہی سعادت مند وہ شخص ہے جو اس نور میں سے کچھ پاوے۔ جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ پھل اپنے وقت پر آتے ہیں ایسا ہی نور بھی اپنے وقت پر ہی اترتا ہے۔ اور قبل اس کے جو وہ خود اترے کوئی اس کو اتار نہیں سکتا۔ اور جبکہ وہ اترے تو کوئی اس کو بند نہیں کرسکتا۔مگر ضرور ہے کہ جھگڑے ہوں اور اختلاف ہو مگر آخر سچائی کی فتح ہے۔ کیونکہ یہ امر انسان سے نہیں ہے اور نہ کسی آدم زاد کے ہاتھوں سے بلکہ اس خدا کی طرف سے ہے جو موسموں کو بدلاتا اور وقتوں کو پھیرتا اور دن سے رات اور رات سے دن نکالتا ہے۔ وہ تاریکی بھی پیدا کرتا ہے مگر چاہتا روشنی کو ہے۔ وہ شرک کو بھی پھیلنے دیتا ہے مگر پیار اس کا توحید سے ہی ہے اور نہیں چاہتا کہ اس کا جلال دوسرے کو دیا جائے۔ جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے اس وقت تک کہ نابود ہوجائے خدا کا قانون قدرت یہی ہے کہ وہ توحید کی ہمیشہ حمایت کرتا ہے۔ جتنے نبی اس نے بھیجے سب اسی لئے آئے تھے کہ تا انسانوں اور دوسری مخلوقوں کی پرستش دور کر کے خدا کی پرستش دنیا میں قائم کریں اور ان کی خدمت یہی تھی کہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کا مضمون زمین پر چمکے جیسا کہ وہ آسمان پر چمکتا ہے۔ سو ان سب میں سے بڑا وہ ہے جس نے اس مضمون کو بہت چمکایا۔ جس نے پہلے باطل الہو ا ں کی کمزوری ثابت کی اور علم اور طاقت کے رو سے ان کا ہیچ ہونا ثابت کیا۔ اور جب سب کچھ ثابت کرچکا تو پھر اس فتح نمایاں کی ہمیشہ کے لئے یادگار یہ چھوڑی کہ لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ۔ اس نے صرف بے ثبوت دعویٰ کے طور پرلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ نہیں کہا بلکہ اس نے پہلے ثبوت دے کر اور باطل کا بطلان دکھلا کر پھر لوگوں کو اس طرف توجہ دی کہ دیکھو اس خدا کے سوا اور کوئی خدا نہیں جس نے تمہاری تمام قوتیں توڑ دیں اور تمام شیخیاں نابود کردیں۔ سو اس ثابت شدہ بات کو یاد دلانے کے لئے ہمیشہ کے لئے یہ مبارک کلمہ سکھلایا کہ لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ۔