اس ؔ قرابا دین کا جس میں مرہم عیسیٰ تھی ترجمہ کیا تو عقلمندی سے شلیخا کے لفظ کو جو ایک یونانی لفظ ہے جو باراں کو کہتے ہیں بعینہٖ عربی میں لکھ دیا تا اس بات کا اشارہ کتابوں میں قائم رہے کہ یہ کتاب یونانی قرابا دین سے ترجمہ کی گئی۔ اسی وجہ سے اکثر ہر ایک کتاب میں شلیخا کا لفظ بھی لکھا ہوا پاؤ گے۔
اور یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اگرچہ پرانے سکّے بڑی قابل قدر چیزیں ہیں اور ان کے ذریعہ سے بڑے بڑے تاریخی اسرار کھلتے ہیں لیکن ایسی پرانی کتابیں جو مسلسل طور پر ہر صدی میں کروڑہا انسانوں میں مشہور ہوتی چلی آئیں اور بڑے بڑے مدارس میں پڑھائی گئیں اور اب تک درسی کتابوں میں داخل ہیں ان کا مرتبہ اور عزت ان سکّوں اور کتبوں سے ہزارہا درجہ بڑھ کر ہے۔ کیونکہ کتبوں اور سکّوں میں جعل سازی کی بھی گنجائشیں ہیں لیکن وہ علمی کتابیں جو اپنے ابتدائی زمانہ میں ہی کروڑہا انسانوں میں مشہور ہوتی چلی آئی ہیں اور ہر ایک قوم ان کی محافظ اور پاسبان ہوتی رہی ہے اور اب بھی ہے۔ ان کی تحریریں بلا شبہ ایسی اعلیٰ درجہ کی شہادتیں ہیں جو سکّوں اور کتبوں کو ان سے کچھ بھی نسبت نہیں۔ اگر ممکن ہو تو کسی سکّہ یا کتبہ کا نام تو لو جس نے ایسی شہرت پائی ہو جیسا کہ بو علی سینا کے قانون نے۔ غرض مرہم عیسیٰ حق کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان شہادت ہے۔ اگر اس شہادت کو قبول نہ کیا جائے تو پھر دنیا کے تمام تاریخی ثبوت اعتبار سے گر جاویں گے کیونکہ اگرچہ اب تک ایسی کتابیں جن میں اس مرہم کا ذکر ہے قریباً ایک ہزار ہیں یا کچھ زیادہ۔ لیکن کروڑہا انسانوں میں یہ کتابیں اور ان کے مؤلّف شہرت یافتہ ہیں۔ اب ایسا شخص علم تاریخ کا دشمن ہوگا جو اس بدیہی اور روشن اور پُرزور ثبوت کو قبول نہ کرے۔ اور کیا یہ تحکّم پیش کیا جاسکتا ہے کہ اس قدر عظیم الشان ثبوت کو ہم نظر انداز کر دیں اور کیا ہم ایسے بھاری ثبوت پر بدگمانی کر سکتے ہیں جو یورپ اور ایشیا پر دائرہ کی