میں خلت کے یہ معنے بھی کئے جائیں گے کہ حضرت مسیح کو زندہ مع جسم عنصری آسمان پر پہنچا دیا گیا ہے۔ لہٰذا اِس تشریح سے بطور حفظ ماتقدم پہلے سے ہی ان خیالاتِ فاسدہ کا ردّ کردیا۔ اب اس تمام تحقیق کے رُو سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میں نے ان معنوں میں کوئی جھوٹ نہیں بولابلکہ آپ ناراض نہ ہوں آپ خود بوجہ ترک معنی قرآن اِس قول شنیع دروغگوئی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ میں آپ کو ہزارروپیہ بطور انعام دینے کو طیار ہوں اگر آپ کسی قرآن شریف کی آیت یا کسی حدیث قوی یا ضعیف یا موضوع یا کسی قول صحابی یا کسی دوسرے امام کے قول سے یا جاہلیت کے خطبات یا دواوین اور ہر ایک قسم کے اشعار یا اسلامی فصحاء کے کسی نظم یا نثر سے یہ ثابت کرسکیں کہ خلت کے معنوں میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی شخص مع جسم عنصری آسمان پر چلا جائے۔ خدا ؔ تعالیٰ کا قرآن شریف میں اوّل خلت کا بیان کرنا اور پھر ایسی عبارت میں جو بموجب اصول بلاغت و معانی تفسیر کے محل میں ہے صرف مرنا یا قتل کئے جانا بیان فرمانا۔ کیامومن کے لئے یہ اِس بات پر حجت قاطع نہیں ہے کہ خلت کے معنے اِس محل میں دو ہی ہیں یعنی مرنا یاقتل کئے جانا۔ اب خدا کی گواہی کے بعد اور کس کی گواہی کی ضرورت ہے۔ الحمد للّٰہ ثم الحمد للّٰہ کہ اسی مقام میں خدا تعالیٰ نے میری سچائی کی گواہی دے دی اور بیان فرما دیا کہ خلت کے معنے مرنا یا قتل کئے جانا ہے۔ آپ نے تو اِس مقام میں اپنے اس اشتہار میں میری نسبت یہ عبارت لکھی ہے کہ ایسا جھوٹ بولا ہے کہ کسی ایماندار بلکہ ذرہ شرم اور حیا کے آدمی کا کام نہیں۔ لیکن یہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک عظیم الشان نشان ہے کہ وہی جھوٹ قرآنی شہادت سے آپ پر ثابت ہوگیا۔ اب بتلایئے کہ میں آپ کی نسبت کیا کہوں۔ آپ نے ناحق جلد بازی کرکے میرا نام دروغگو رکھالیکن میں نہیں چاہتا کہ