یا کسی حدیث کو اپنے لئے حجت نہیں سمجھتے۔ لیکن ہم نے محض اس غرض سے ان کو لکھا ہے کہ تا عیسائیوں کو قرآن شریف اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ معلوم ہو اور ان پر یہ حقیقت کھلے کہ کیونکر وہ سچائیاں جو صدہابرس کے بعد اب معلوم ہوئی ہیں وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم نے پہلے سے بیان کردی ہیں۔ چنانچہ اُن میں سے کسی قدر ذیل میں لکھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ 3 ۱؂ الآیۃ 3۲؂ الآیۃیعنی یہودیوں نے نہ حضرت مسیح کو درحقیقت قتل کیا اور نہ بذریعہ صلیب ہلاک کیا بلکہ ان کو محض ایک شبہ پیدا ہوا کہ گویا حضرت عیسیٰ صلیب پر فوت ہوگئے ہیں اور ان کے پاس وہ دلائل نہیں ہیں جن کی وجہ سے ان کے دل اس بات پر مطمئن ہو سکیں کہ یقیناًحضرت مسیح علیہ السلام کی صلیب پر جان نکل گئی تھی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اگرچہ یہ سچ ہے کہ بظاہر مسیح صلیب پر کھینچا گیا اور اس کے مارنے کا ارادہ کیا گیا مگر یہ محض ایک دھوکا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے ایسا خیال کر لیا کہ درحقیقت حضرت مسیح علیہ السلام کی جان صلیب پر نکل گئی تھی بلکہ خدا نے ایسے اسباب پیدا کردئیے جن کی وجہ سے وہ صلیبی موت سے بچ رہا۔ اب انصاف کرنے کا مقام ہے کہ جو کچھ قرآن کریم نے یہود اور نصاریٰ کے برخلاف فرمایا تھا آخر کار وہی بات سچی نکلی۔ اور اس زمانہ کی اعلیٰ درجہ کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیح درحقیقت صلیبی موت سے بچائے گئے تھے۔ کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ یہودی اس بات کا جواب دینے سے قاصر رہے کہ کیونکر حضرت مسیح علیہ السلام کی جان بغیر ہڈیاں توڑنے کے صرف دو تین گھنٹہ میں نکل گئی۔ اسی وجہ سے بعض یہودیوں نے ایک اور بات بنائی ہے کہ