کی طرف بھیجا گیا ہوں اور سب سے پہلا مومن ہوں۔‘‘ اور تونے ہی مجھے کہا کہ ’’ میں نے تجھے اس لئے بھیجا ہے کہ تا اسلام کو تمام قوموں کے آگے روشن کرکے دکھلاؤں اور کوئی مذہب اُن تمام مذہبوں میں سے جو زمین پر ہیں برکات میں، معارف میں، تعلیم کی عمدگی میں، خدا کی تائیدوں میں خدا کے عجائب غرائب نشانوں میں اسلام سے ہمسری نہ کرسکے۔‘‘ اور تو نے ہی مجھے فرمایا کہ ’’ تو میری درگاہ میں وجیہ ہے۔ میں نے اپنے لئے تجھے اختیارکیا ‘‘۔ مگر اے میرے قادر خدا تو جانتا ہے کہ اکثر لوگوں نے مجھے منظور نہیں کیا۔ اور مجھے مفتری سمجھا۔ اور میرا نام کافر اور کذّاب اور دجّال رکھا گیا۔ مجھے گالیاں دی گئیں اور طرح طرح کی دل آزار باتوں سے مجھے ستایا گیا اور میری نسبت یہ بھی کہا گیا کہ ’ ’ حرام خور لوگوں کامال کھانے والا، وعدوں کا تخلّف کرنے والا، حقوق کو تلف کرنے والا، لوگوں کو گالیاں دینے والا عہدوں کو توڑنے والا، اپنے نفس کے لئے مال کو جمع کرنے والا اور شریر اورخونی ہے‘‘۔ یہ وہ باتیں ہیں جو خود اُن لوگوں نے میری نسبت کہیں جو مسلمان کہلاتے اور اپنے تئیں اچھے اوراہل عقل اور پرہیز گار جانتے ہیں۔ اور اُن کا نفس اِس بات کی طرف مائل ہے کہ درحقیقت جو کچھ وہ میری نسبت کہتے ہیں سچ کہتے ہیں اور انہوں نے صدہا آسمانی نشان تیری طرف سے دیکھے مگر پھر بھی قبول نہیں کیا۔ وہ میری جماعت کو نہایت تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہر ایک اُن میں سے جو بدزبانی کرتا ہے وہ خیال کرتا ہے کہ بڑے ثواب کا کام کر رہا ہے۔ سو اے میرے مولا قادر خدا! اب مجھے راہ بتلا اور کوئی ایسا نشان ظاہر فرما جس سے تیرے ؔ سلیم الفطرت بندے نہایت قوی طور پر یقین کریں کہ میں تیرامقبول ہوں۔ اور جس سے اُن کا ایمان قوی ہو۔ اور وہ تجھے پہچانیں اور تجھ سے ڈریں اور تیرے اِس بندے کی ہدایتوں کے موافق ایک پاک تبدیلی ان کے اندر پیدا ہو اور زمین پر