ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ اور دلی جان نثار ہو جائیں اور جہاد اور خونی مہدی کے انتظار وغیرہ بیہودہ خیالات سے جو قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوسکتے دست بردار ہو جائیں اور اگر وہ اِس غلطی کو چھوڑنا نہیں چاہتے تو کم سے کم یہ ان کا فرض ہے کہ اِس گورنمنٹ محسنہ کے ناشکرگذار نہ بنیں اور نمک ّ*** سے خدا کے گنہگار نہ ٹھہریں کیونکہ یہ گورنمنٹ ہمارے مال او رخون اور عزت کی محافظ ہے اور اس کے مبارک قدم سے ہم جلتے ہوئے تنور میں سے نکالے گئے ہیں۔ یہ کتابیں ہیں جو میں نے اس ملک اور عرب اور شام اور فارس اور مصر وغیرہ ممالک میں شائع کی ہیں چنانچہ شام کے ملک کے بعض عیسائی فاضلوں نے بھی میری کتابوں کے شائع ہونے کی گواہی دی ہے اور میری بعض کتابوں کا ذکر کیا ہے*۔ اب میں اپنی گورنمنٹ محسنہ کی خدمت میں جرأت سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ بِست سالہ میری خدمت ہے جس کی نظیر برٹش انڈیا میں ایک بھی اسلامی خاندان پیش نہیں کرسکتا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ اِس قدر لمبے زمانہ تک کہ جو بیس برس کا زمانہ ہے ایک مسلسل طور پر تعلیم مذکور بالا پر زور دیتے جاناکسی منافق اور خود غرض کا کام نہیں ہے بلکہ ایسے شخص کا کام ہے جس کے دِل میں اِس گورنمنٹ کی سچی خیرخواہی ہے۔ ہاں میں اِس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نیک نیتی سے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے مباحثات بھی کیا کرتا ہوں اور ایسا ہی پادریوں کے مقابل پر بھی مباحثات کی کتابیں شائع کرتا * خریسطفور جبارہ نام ایک دمشق کا رہنے والا فاضل عیسائی اپنی کتاب خلاصۃ الادیان کے صفحہ چوالیس۴۴ میں میری کتاب حمامۃ البشریٰ کا ذکر کرتا ہے اور حمامۃ البشریٰ میں سے چھ۶ سطریں بطور نقل کے لکھتا ہے اور میری نسبت لکھتا ہے کہ یہ کتاب ایک ہندی فاضل کی ہے جو تمام ملک ہند میں مشہور ہے دیکھو خلاصۃ الادیان و زبدۃ الادیان صفحہ ۲۴ چودھویں سطرسے اکیسویں سطر تک ۔ منہ