لکھے ؔ گئے ہیں جیسا کہ ان چار انجیلوں میں ۔عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو ان کتابوں میں مسیح کا پاک اور بے داغ چال چلن مانا جاتا ہے اور دوسری طرف اس پر ایسے الزام لگائے جاتے ہیں جو کسی راستباز کی شان کے ہرگز مناسب نہیں ہیں۔ مثلاً اسرائیلی نبیوں نے یوں تو توریت کے منشاء کے موافق ایک ہی وقت میں صدہا بیویوں کو رکھا تا پاکوں کی نسل کثرت سے پیدا ہو۔ مگر آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ کسی نبی نے اپنی بے قیدی کا یہ نمونہ دکھلایا کہ ایک ناپاک بدکردار عورت اور شہر کی مشہور فاسقہ اس کے بدن سے اپنے ہاتھ لگاوے اور اس کے سر پر حرام کی کمائی کا تیل ملے اور اپنے بال اس کے پاؤں پر ملے۔ اور وہ یہ سب کچھ ایک جوان ناپاک خیال عورت سے ہونے دے اور منع نہ کرے۔ اس جگہ صرف نیک ظنی کی برکت سے انسان ان اوہام سے بچ سکتا ہے جو طبعاً ایسے نظارہ کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن بہر حال یہ نمونہ دوسروں کے لئے اچھا نہیں۔ غرض ان انجیلوں میں بہت سی باتیں ایسی بھری پڑی ہیں کہ وہ بتلا رہی ہیں کہ یہ انجیلیں اپنی اصلی حالت پر قائم نہیں رہیں یا ان کے بنانے والے کوئی اور ہیں حواری اور ان کے شاگرد نہیں ہیں۔ مثلاً انجیل متی کا یہ قول ’’اور یہ بات آج تک یہودیوں میں مشہور ہے‘‘۔ کیا اس کا لکھنے والا متی کو قرار دینا صحیح اور مناسب ہوسکتا ہے؟ کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس انجیل متی کا لکھنے والا کوئی اور شخص ہے جو متی کی وفات کے بعد گذرا ہے۔ پھر اسی انجیل متی باب ۲۸ آیت ۱۲و ۱۳ میں ہے۔ ’’تب انہوں نے یعنی یہودیوں نے بزرگوں کے ساتھ اکٹھے ہوکر صلاح کی اور ان پہرہ والوں کو بہت روپے دئیے اور کہا تم کہو کہ رات کو جب ہم سوتے تھے اس کے شاگرد یعنی مسیح کے شاگرد آکر اسے چُرا کر لے گئے‘‘۔ دیکھو یہ کیسی کچی اور نامعقول باتیں ہیں۔ اگر اس سے مطلب یہ ہے کہ یہودی اس بات کو پوشیدہ کرنا چاہتے تھے کہ یسوع مُردوں میں سے جی اٹھا ہے اس لئے انہوں نے پہرہ والوں کو رشوت دی تھی کہ تا یہ عظیم الشان معجزہ ان کی قوم میں مشہور نہ ہو تو کیوں یسوع نے جس کا یہ فرض تھا کہ اپنے اس معجزہ کی یہودیوں میں اشاعت کرتا اس کو مخفی رکھا بلکہ دوسروں کو بھی اس کے ظاہر کرنے سے منع کیا۔