کرکے اپنے خداوند کسریٰ کے پاس حاضر کریں تو آپ نے اُن کی اِس بات کی کچھ پرواہ نہ کرکے فرمایا کہ میں اِس کا کَل جواب دُوں گا۔ دوسری صبح جب وہ حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ آج رات میرے خداوند نے تمہارے خداوند کو (جس کو وہ بار بار خداوند خداوند کرکے پکارتے تھے) اُسی کے بیٹے شیرویہ کو اُس پر مسلط کرکے قتل کردیا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جب یہ لوگ یمن کے اُس شہر میں پہنچے جہاں سلطنت فارس کا گورنر رہتا تھا تو ابھی تک اُس گورنر کو کسریٰ کے قتل کئے جانے کی کچھ بھی خبر نہیں پہنچی تھی اس لئے اُس نے بہت تعجب کیا مگر یہ کہا کہ اِس عدول حکمی کے تدارک کے لئے ہمیں جلد تر کچھ نہیں کرنا چاہیئے جب تک چند روز تک پایۂ سلطنت کی ڈاک کی انتظار نہ کرلیں۔ سو جب چندروز کے بعد ڈاک پہنچی تو اُن کا غذات میں سے ایک پروانہ یمن کے گورنر کے نام نکلا جس کو شیرویہ کسریٰ کے ولی عہد نے لکھا تھا۔ مضمون یہ تھا کہ ’’خسرو میرا باپ ظالم تھا اور اُس کے ظلم کی وجہ سے اُمورِ سلطنت میں فساد پڑتا جاتا تھا اِس لئے میں نے اُس کو قتل کردیاہے۔ اب تم مجھے اپنا شہنشاہ سمجھو اور میری اطاعت میں رہو۔ اور ایک نبی جو عرب میں پیدا ہوا ہے جس کی گرفتاری کے لئے میرے باپ نے تمہیں لکھا تھااُس حکم کو بالفعل ملتوی رکھو ‘‘۔ اور جیسا کہ ابھی ہم بیان کرچکے ہیں کہ قیصر اور آتھم کا قصہ بالکل باہم مشابہ ہے ایسا ہی ہم اِس جگہ بھی اِس بات کے لکھنے کے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اسی طرح لیکھرام کا قصہ کسریٰ یعنی خسرو پرویز کے قصیّ سے نہایت شدید مشابہت رکھتا ہے کیونکہ جس طرح کسی ہندو نے جو اپنے تئیں نو مسلم قرار دیتا تھا لیکھرام کے پیٹ پر حربہ چلایا اسی طرح شیرویہ نے خسرو کے پیٹ پر حربہ چلایا۔ اور اُن دونوں واقعات لیکھرام اور کسریٰ سے اُس وقت خبر دی گئی تھی جبکہ کسی کو یہ خیال بھی نہ تھا کہ ایساواقعہ