مارےؔ گئے تو یہ خیال صحیح نہیں ہے کیونکہ یوحنّا باب۱۹ آیت ۱۱ میں مسیح نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ یہودی مسیح کے قتل کرنے کے ارادہ سے سخت گناہ گار ہیں۔ اور ایسا ہی اور کئی مقامات میں اسی امر کی طرف اشارہ ہے۔ اور صاف لکھا ہے کہ اس جرم کی عوض میں جو مسیح کی نسبت ان سے ظہور میں آیا خداتعالیٰ کے نزدیک قابل سزا ٹھہر گئے تھے۔ دیکھو انجیل متی باب ۲۶ آیت ۲۴۔
اور منجملہ ان انجیلی شہادتوں کے جو ہم کو ملی ہیں انجیل متی کی وہ عبارت ہے جو ذیل میں لکھی جاتی ہے۔ ’’میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ان میں سے جو یہاں کھڑے ہیں بعضے ہیں کہ جب تک ابن آدم کو اپنی بادشاہت میں آتے دیکھ نہ لیں موت کا مزہ نہ چکھیں گے‘‘۔ دیکھو انجیل متی باب ۱۶ آیت ۲۸۔ ایسا ہی انجیل یوحنّا کی یہ عبارت ہے۔یسوع نے اسے کہا کہ اگر میں چاہوں کہ جب تک میں آؤں وہ (یعنی یوحنّا حواری) یہیں ٹھہرے یعنی یروشلم میں۔ دیکھو یوحنا باب ۲۱ آیت ۲۲ یعنی اگر میں چاہوں تو یوحنّا نہ مرے جب تک میں دوبارہ آؤں۔ ان آیات سے بکمال صفائی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے وعدہ کیا تھا کہ بعض لوگ اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک کہ وہ پھر واپس ہو اور ان زندہ رہنے والوں میں سے یوحنّاکو بھی قرار دیا تھا۔ سو ضرور تھا کہ یہ وعدہ پورا ہوتا۔ چنانچہ عیسائیوں نے بھی اس بات کو مان لیا ہے کہ یسوع کا اس زمانہ میں جبکہ بعض اہل زمانہ زندہ ہوں پیشگوئی کے پورا کرنے کے لئے آنا نہایت ضروری تھا تا وعدہ کے موافق پیشگوئی ظہور میں آوے۔ اسی بنا پر پادری صاحبوں کو اس بات کا اقرار ہے کہ یسوع اپنے وعدہ کے موافق یروشلم کی بربادی کے وقت آیا تھا اور یوحنا نے اس کو دیکھا کیونکہ وہ اس وقت تک زندہ تھا مگر یاد رہے کہ عیسائی اس بات کو نہیں مانتے کہ مسیح اس وقت حقیقی طور پر اپنے قرار داد نشانوں کے موافق آسمان سے نازل ہوا تھا بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ایک کشفی رنگ میں یوحنا کو نظر آگیا تا اپنی اس پیشگوئی کو پورا کرے جو متی باب۱۶ آیت ۳۸ میں ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ