بعدؔ جینا مراد نہیں ہوسکتا۔ بلکہ چونکہ یہودیوں اور عام لوگوں کی نظر میں وہ صلیب پر مرچکا تھا اس لئے مسیح نے پہلے سے اُن کے آئندہ خیالات کے موافق یہ کلمہ استعمال کیا۔ اور درحقیقت جس شخص کو صلیب پر کھینچا گیا اور اس کے پیروں اور ہاتھوں میں کیل ٹھوکے گئے یہاں تک کہ وہ اس تکلیف سے غشی میں ہوکر مردہ کی سی حالت میں ہوگیا۔ اگر وہ ایسے صدمہ سے نجات پاکر پھر ہوش کی حالت میں آجائے تو اس کا یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ میں پھر زندہ ہوگیا اور بلاشبہ اس صدمہ عظیمہ کے بعد مسیح کا بچ جانا ایک معجزہ تھا معمولی بات نہیں تھی۔ لیکن یہ درست نہیں ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ مسیح کی جان نکل گئی تھی۔ سچ ہے کہ انجیلوں میں ایسے لفظ موجود ہیں لیکن یہ اسی قسم کی انجیل نویسوں کی غلطی ہے جیسا کہ اور بہت سے تاریخی واقعات کے لکھنے میں انہوں نے غلطی کھائی ہے۔ انجیلوں کے محقق شارحوں نے اس بات کو مان لیا ہے کہ انجیلوں میں دو حصے ہیں (۱) ایک دینی تعلیم ہے جو حواریوں کو حضرت مسیح علیہ السلام سے ملی تھی جو اصل روح انجیل کا ہے۔ (۲)اور دوسرے تاریخی واقعات ہیں جیسے حضرت عیسیٰ کا شجرہ نسب اور ان کا پکڑا جانا اور مارا جانا اور مسیح کے وقت میں ایک معجزہ نما تالاب کا ہونا وغیرہ یہ وہ امور ہیں جو لکھنے والوں نے اپنی طرف سے لکھے تھے۔ سو یہ باتیں الہامی نہیں ہیں بلکہ لکھنے والوں نے اپنے خیال کے موافق لکھی ہیں اور بعض جگہ مبالغہ بھی حد سے زیادہ کیا ہے۔ جیسا کہ ایک جگہ لکھا ہے کہ جس قدر مسیح نے کام کئے یعنی معجزات دکھلائے اگر وہ کتابوں میں لکھے جاتے تو وہ کتابیں دنیا میں سما نہ سکتیں۔ یہ کس قدر مبالغہ ہے۔ ماسوا اس کے ایسے بڑے صدمہ کو جو مسیح پر وارد ہوا تھا موت کے ساتھ تعبیر کرنا خلاف محاورہ نہیں ہے۔ ہر ایک قوم میں قریباً یہ محاورہ پایا جاتا ہے کہ جو شخص ایک مہلک صدمہ میں مبتلا ہوکر پھر آخر بچ جائے اس کو کہا جاتا ہے کہ نئے سرے زندہ ہوا اور کسی قوم اور ملک کے محاورہ میں ایسی بول چال میں کچھ بھی تکلف نہیں۔ ان سب امور کے بعد ایک اور بات ملحوظ رکھنے کے لائق ہے کہ برنباس کی انجیل