صلی ؔ اﷲ علیہ وسلم کیسے کمزوری کی حالت میں مکہ میں ظاہر ہوئے تھے اور ان دنوں میں ابوجہل وغیرہ کفار کا کیا کچھ عروج تھا اور لاکھوں آدمی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے دشمن جانی ہو گئے تھے تو پھر کیا چیز تھی جس نے انجام کار ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو فتح اور ظفر بخشی۔ یقیناًسمجھو کہ یہی راستبازی اور صدق اور پاک باطنی اور سچائی تھی۔ سو بھائیو! اس پر قدم مارو اور اس گھرمیں بہت زور کے ساتھ داخل ہو۔ پھر عنقریب دیکھ لو گے کہ خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔ وہ خدا جو آنکھوں سے پوشیدہ مگر سب چیزوں سے زیادہ چمک رہا ہے جس کے جلال سے فرشتے بھی ڈرتے ہیں۔ وہ شوخی اور چالاکی کو پسند نہیں کرتا اور ڈرنے والوں پر رحم کرتا ہے سو اس سے ڈرو اور ہر ایک بات سمجھ کر کہو۔ تم اُس کی جماعت ہو جن کو اُس نے نیکی کا نمونہ دکھانے کے لئے چُنا ہے۔ سو جو شخص بدی نہیں چھوڑتا اور اُس کے لب جھوٹ سے اور اُس کا دل ناپاک خیالات سے پرہیز نہیں کرتا وہ اس جماعت سے کاٹا جائے گا۔ اے خدا کے بندو دلوں کو صاف کرو اور اپنے اندرونوں کو دھو ڈالو۔ تم نفاق اور دورنگی سے ہر ایک کو راضی کر سکتے ہو مگر خدا کو اس خصلت سے غضب میں لاؤ گے اپنی جانوں پر رحم کرو اور اپنی ذرّیت کو ہلاکت سے بچاؤ۔ کبھی ممکن ہی نہیں کہ
آسمان پر پہنچا دیا تھا سراسر لغو خیال معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ خدا کے اس فعل سے یہودیوں پر کوئی حجت پوری نہیں ہوتی۔ یہودیوں نے نہ تو آسمان پر چڑھتے دیکھا اور نہ آج تک اُترتے دیکھا۔ پھر وہ اس مہمل اور بے ثبوت قصے کو کیونکر مان سکتے ہیں۔ ماسوا اس کے یہ بھی سوچنے کے لائق ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کریم حضرت سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو قریش کے حملہ کے وقت جو یہودیوں کی نسبت زیادہ بہادر اور جنگ جُو اور کینہ ور تھے صرف اسی غار کی پناہ میں بچا لیا جو مکہ معظمہ سے تین میل سے زیادہ نہ تھی تو کیا نعوذ باﷲ خدا تعالیٰ کو بزدل یہودیوں کا کچھ ایسا خوف تھا کہ بجز دوسرے آسمان پر پہنچانے کے اُس کے دل میں