اورؔ تواضع اور صبر اور تقویٰ اختیار کرو۔ اور خداتعالیٰ سے چاہو کہ وہ تم میں اور تمہاری قوم میں فیصلہ فرماوے۔ بہتر ہے کہ شیخ محمد حسین اور اس کے رفیقوں سے ہر گز ملاقات نہ کرو کہ بسااوقات ملاقات موجب جنگ و جدل ہو جاتی ہے اور بہتر ہے کہ اس عرصہ میں کچھ بحث مباحثہ بھی نہ کرو کہ بسا اوقات بحث مباحثہ سے تیز زبانیاں پید اہوتی ہیں ضرور ہے کہ نیک عملی اور راست بازی اور تقویٰ میں آگے قدم رکھو کہ خدا ان کو جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں ضائع نہیں کرتا۔ دیکھو حضرت موسیٰ نبی علیہ السلام جو سب سے زیادہ اپنے زمانہ میں حلیم اور متقی تھے تقویٰ کی برکت سے فرعون پر کیسے فتح یاب ہوئے۔ فرعون چاہتا تھا کہ اُن کو ہلاک کرے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آنکھوں کے آگے خدا تعالیٰ نے فرعون کو مع اس کے تمام لشکر کے ہلاک کیا پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بد بخت یہودیوں نے یہ چاہا کہ ان کو ہلاک کریں اور نہ صرف ہلاک بلکہ اُن کی پاک روح پر صلیبی موت سے *** کا داغ لگا ویں کیونکہ توریت میں لکھا تھا کہ جو شخص لکڑی پر یعنی صلیب پر مارا جائے وہ *** ہے یعنی اس کا دل پلید اور ناپاک اور خدا کے قرب سے دور جا پڑتا ہے اور راندۂ درگاہِ الہٰی اور شیطان کی مانند ہو جاتا ہے۔ اِسی لئے لعین شیطان کا نام ہے۔ اور یہ نہایت بد منصوبہ تھا کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت سوچا گیاتھاتا اس سے وہ نالائق قوم یہ نتیجہ نکالے کہ یہ شخص پاک دل اور سچا نبی اور خدا کا پیارا نہیں ہے بلکہ نعوذ باﷲ *** ہے جس کا دل پاک نہیں ہے اور جیسا کہ مفہوم *** کا ہے وہ خدا سے بجان ودل بیزار اور خدا اُس سے بیزار ہے لیکن خدائے قادر قیوم نے بد نیت یہودیوں کو اس ارادہ سے ناکام اور نا مراد رکھا اور اپنے پاک نبی علیہ السلام کو نہ صرف صلیبی موت سے بچایا بلکہ اس کو ایک سو بیس ۱۲۰برس* تک زندہ رکھ کر تمام دشمن یہودیوں کو اُس کے * حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک سو بیس ۱۲۰برس کی عمر ہوئی تھی۔