خرچ ہوئے اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا۔ کیا اس قدر بڑی کارروائی اور اس قدر دور دراز مدت تک ایسے انسان سے ممکن ہے جو دل میں بغاوت کا ارادہ رکھتا ہو؟ پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد اور حفظ امن اور جہادی خیالات کے روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے پوری استقامت سے کام لیا۔ کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے؟ اگر میں نے یہ اشاعت گورنمنٹ انگریزی کی سچی خیر خواہی سے نہیں کی تو مجھے ایسی کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم وغیرہ بلاد اسلامیہ میں شائع کرنے سے کس انعام کی توقع تھی؟ یہ سلسلہ ایک دو دن کا نہیں بلکہ برابر سترہ سال کا ہے اور اپنی کتابوں اور رسالوں کے جن مقامات میں مَیں نے یہ تحریریں لکھیں ہیں ان کتابوں کے نام معہ ان کے نمبر صفحوں کے یہ ہیں۔ جن میں سرکار انگریزی کی خیر خواہی اور اطاعت کا ذکر ہے۔
نمبر
نام کتاب
تاریخ طبع
نمبر صفحہ
۱
براہین احمدیہ حصہ سوم
۱۸۸۲ ء
الف سے ب تک (شروع کتاب)
۲
براہین احمدیہ حصہ چہارم
۱۸۸۴ ء
الف سے د تک ایضاً
۳
آریہ دھرم (نوٹس) دربارہ توسیع دفعہ ۲۹۸
۲۲ ؍ستمبر ۱۸۹۵ ء
۵۷ سے ۶۴ تک آخر کتاب
۴
التماس شامل آریہ دھرم ایضاً
۲۲ ؍ستمبر ۱۸۹۵ ء
۱ سے ۴ تک آخر کتاب
۵
درخواست شامل آریہ دھرم ایضاً
۲۲ ؍ستمبر ۱۸۹۵ ء
۶۹ سے ۷۲ تک آخر کتاب
۶
خط دربارہ توسیع دفعہ ۲۹۸
۲۱ ؍کتوبر ۱۸۹۵ ء
۱ سے ۸ تک
۷
آئینہ کمالات اسلام
فروری؍ ۱۸۹۳ ء
۱۷ سے ۲۰ تک اور ۵۱۱ سے ۵۲۸ تک
۸
نورؔ الحق حصہ اوّل اعلان
۱۳۱۱ ھ
۲۳ سے ۵۴ تک