اور منجملہ ہمارے اعتراضات کے ایک یہ اعتراض بھی تھا کہ جس فدیہ کو عیسائی پیش کرتے ہیں وہ خدا کے قدیم قانون قدرت کے بالکل مخالف ہے کیونکہ قانون قدرت میں کوئی اس بات کی نظیر نہیں کہ ادنیٰ کے بچانے کے لئے اعلیٰ کو مارا جائے۔ ہمارے سامنے خدا کا قانون قدرت ہے اس پر نظر ڈالنے سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیشہ ادنیٰ اعلیٰ کی حفاظت کے لئے مارے جاتے ہیں۔ چنانچہ جس قدر دنیا میں جانور ہیں یہاں تک کہ پانی کے کیڑے وہ سب انسان کے بچانے کے لئے جو اشرف المخلوقات ہے کام میں آ رہے ہیں۔ پھر یسوع کے خون کا فدیہ کس قدر اس قانون کے مخالف ہے جو صاف صاف نظر آرہا ہے اور ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جو زیادہ قابل قدر اور پیارا ہے اسی کے بچانے کے لئے ادنیٰ کو اس اعلیٰ پر قربان کیا جاتا ہے۔ چنانچہ خداتعالیٰ نے انسان کی جان بچانے کے لئے کروڑ ہا حیوانوں کو بطور فدیہ کے دیا ہے۔ اور ہم تمام انسان بھی فطرتاً ایسا ہی کرنے کی طرف راغب ہیں تو پھر خود سوچ لو کہ عیسائیوں کا فدیہ خدا کے قانون قدرت سے کس قدر دور پڑا ہوا ہے۔
ایک اور اعتراض ہے جو ہم نے کیا تھا اور وہ یہ ہے کہ یسوع کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ موروثی اور کسبی گناہ سے پاک ہے۔ حالانکہ یہ صریح غلط ہے۔ عیسائی خود مانتے ہیں کہ یسوع نے اپنا تمام گوشت و پوست اپنی والدہ سے پایا تھا اور وہ گناہ سے پاک نہ تھی۔ اور نیز عیسائیوں کا یہ بھی اقرار ہے کہ ہر ایک درد اور دکھ گناہ کا پھل ہے اور کچھ شک نہیں ؔ کہ یسوع بھوکا بھی ہوتا تھا اور پیاسا بھی اور بچپن میں قانون قدرت کے موافق خسرہ بھی اس کو نکلا ہوگا اور چیچک بھی اور دانتوں کے نکلنے کے دکھ بھی اٹھائے ہوں گے اور موسموں کے تپوں میں بھی گرفتار ہوتا ہوگا اور بموجب اصول عیسائیوں کے یہ سب گناہ کے پھل ہیں۔ پھر کیونکر اس کو پاک فدیہ سمجھا گیا۔ علاوہ اس کے جبکہ روح القدس کا تعلق صرف اسی حالت میں بموجب اصول عیسائیوں کے ہو سکتا تھا کہ جب کوئی شخص ہر ایک طرح سے گناہ سے پاک ہو تو پھر یسوع جو بقول ان کے موروثی گناہ سے پاک نہیں تھا اور نہ گناہوں کے پھل سے بچ سکا اس