بھاری مصیبت ان کو یہ پیش آئی ہے کہ وہ اپنے مذہب کے روحانی برکات ثابت نہیں کر سکے یہؔ تو ظاہر ہے کہ جس مذہب کے قبولیت کے آثار آسمانی نشانوں سے ظاہر نہیں ہیں وہ ایسا آلہ نہیں ٹھہر سکتا جس کو خدانما کہہ سکیں۔ بلکہ اس کا تمام مدار قصّوں اور کہانیوں پر ہوتا ہے۔ اور جس خدا کی طرف وہ راہ دکھلانا چاہتا ہے اس کی نسبت بیان نہیں کر سکتا کہ وہ موجود بھی ہے اور ایسا مذہب اس قدر نکما ہوتا ہے کہ اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہوتا ہے۔ اور ایک مچھر پر غور کر کے خدا کا پتہ لگ سکتا ہے اور ایک پِسّو کو دیکھ کر صانع حقیقی کی طرف ہمارا ذہن منتقل ہو سکتا ہے مگر ایسے مذہب سے ہمیں کچھ بھی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا کہ جو اپنے پیٹ میں صرف قصّوں اور کہانیوں کا ایک مُردہ بچہ رکھتا ہے۔ ہمیں جبراً کہا جاتا ہے کہ تم ان باتوں کو مان لو کہ کسی زمانہ میں یسوع نے کئی ہزار مُردے زندہ کر دئیے تھے اور اس کی موت کے وقت بیت المقدس کے تمام مُردے شہر میں داخل ہوگئے تھے۔ لیکن درحقیقت یہ ایسی ہی باتیں ہیں جیسا کہ ہندوؤں کی پُستکوں میں ہے کہ کسی زمانہ میں مہادیو کی لٹوں سے گنگا بہ نکلی تھی۔ اور راجہ رام چندر نے پہاڑوں کو انگلی پر اٹھا لیا تھا اور راجہ کرشن نے ایک تیر سے اتنے لاکھ آدمی مارے تھے۔ اب کہو کہ ان تمام بے ہودہ اور بے اصل باتوں کو ہم کیونکر مان لیں پھر جبکہ یہ باتیں خود ثبوت کی محتاج ہیں تو پھر ان کے ذریعہ سے کون سا قضیہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کیا اندھا اندھے کو راہ دکھلا سکتا ہے؟ افسوس کہ ایک پتے پر غور کرنے سے بہت کچھ صانع حقیقی کا پتہ لگ سکتا ہے۔ مگر ان کتابوں کا ہزار ورق بھی پڑھ کر موجد حقیقی کا کچھ نشان نہیں ملتا۔ پھر جبکہ انسان کے لئے پہلی اور بڑی مصیبت یہی ہے کہ وہ خداتعالیٰ کی ہستی کی شناخت کرنے کی راہ میں بڑے بڑے مشکلات اور شبہات میں مبتلا ہے یہاں تک کہ بسا اوقات پورا دہریہ اور اکثر دہریت کی رگ اپنے اندر رکھتا ہے۔ اور اسی وجہ سے گناہ کرنے پر دلیر ہو جاتا ہے اور جس قدر سَم الفار کی مہلک تاثیر کی ہیبت اس کو اس حرکت سے ڈراتی ہے کہ وہ اس کے کھانے