بالا رہے گا‘‘۔ سو وہ پیشگوئی لاکھوں آدمیوں کے اقرار سے پوری ہوئی۔ یہاں تک کہ عیسائی پرچہ سول ملٹری گزٹ نے بھی اس کی شہادت دی۔ اور اعجازی طور پر مضمون ہمارا غالب رہا۔ پس یہ شرمندگی حضرات عیسائیوں کے لئے کچھ تھوڑی نہیں تھی کہ ہماری پیشگوئیوں کی سچائی سے متواتر ان کو زخم پہنچے۔ اور اس سے زیادہ ان کی ندامت کا یہ بھی موجب ہوا کہ اس عرصہ میں کئی عمدہ کتابیں ردّ نصاریٰ میں مَیں نے تالیف کیں جن سے ان کے عقائد کے بطلان کی بخوبی حقیقت کھل گئی۔ یہ تمام باتیں ایسی تھیں جن سے مجھے خود اندیشہ تھا کہ آخر کوئی جھوٹا مقدمہ میرے پر بنایا جائے گا۔ کیونکہ دشمن جب لاجواب ہو جاتا ہے تو پھر جان اور آبرو پر حملہ کرتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور آخر یہ خون کا مقدمہ میرے پر بنایا گیا اور ضرور تھا کہ اس میں محمد حسین بٹالوی اور آریہ بھی شامل ہوتے کیونکہ ان سب کو ذلّت پر ذلّت پہنچی اور خدا نے ان سب کا منہ بند کر دیا۔ مگر پادری صاحبوں کو سب سے زیادہ بڑھ کر جوش تھا کیونکہ میری کارروائی میں ان کے کروڑ ہا روپیہ کا نقصان ہے اورعلاوہ آسمانی نشانوں کے میرے اعتراضات نے بھی ان کے مذہب کے تارو پود کو توڑ دیا ہے۔ چنانچہ وہ اعتراض جو ان کے اس عقیدہ پر کیا گیا تھا کہ تمام گناہگاروں کی *** مسیح پر آپڑی جس کا ماحصل یہ تھا کہ مسیح کا دل خداتعالیٰ کی معرفت اور محبت سے بالکل خالی ہوگیا تھا اور درحقیقت وہ خدا کا دشمن ہوگیا تھا۔ یہ ایسا اعتراض تھا کہ عقیدہ کفارہ کو باطل کرتا تھا کیونکہ جبکہ *** اپنے مفہوم کے رو سے مسیح جیسے راستباز انسان پر ہرگز جائز نہیں تو پھر کفّارہ کی چھت جس کا شہتیر *** ہے کیونکر ٹھہر سکتی ہے۔ ایسا ہی وہ اعتراض کہ خدا کاکوئی فعل اس کی قدیم عادت سے مخالف نہیں اور عادت کثرت اور کلّیت کو چاہتی ہے۔ پس اگر درحقیقت بیٹے کو بھیجنا خدا کی عادت میں داخلؔ ہے تو خداکے بہت سے بیٹے چاہئیں تا عادت کا مفہوم جو کثرت کو چاہتا ہے ثابت ہو اور