پہنچا دیتی ہے اسی طرح یہ شخص اپنے علوم روحانیہ سے صحبت یابوں کو علمی رنگ سے رنگین کرتا رہتا ہے اور یقین اور معرفت میں بڑھاتا جاتا ہے مگر دوسرے ملہموں اور زاہدوں کیلئے اس قسم کی بسطت علمی ضروری نہیں کیونکہ نوع انسان کی تربیت علمی ان کے سپرد نہیں کی جاتی۔ اور ایسے زاہدوں اور خواب بینوں میں اگر کچھ نقصان علم اور جہالت باقی ہے تو چنداں جائے اعتراض نہیں کیونکہ وہ کسی کشتی کے ملّاح نہیں ہیں بلکہ خود ملاح کے محتاج ہیں۔ ہاں ان کو ان فضولیوں میں نہیں پڑنا چاہئے کہ ہم اس روحانی ملاح کی کچھ حاجت نہیں رکھتے ہم خود ایسے اور ایسے ہیں۔ اور ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ ضرور ان کو حاجت ہے جیسا کہ عورت کو مرد کی حاجت ہے۔ خدا نے ہر ایک کو ایک کام کے لئے پیدا کیا ہے۔ پس جوؔ شخص امامت کے لئے پیدا نہیں کیا گیا اگر وہ ایسا دعویٰ زبان پر لائے گا تو وہ لوگوں سے اسی طرح اپنی ہنسی کرائے گا جیسا کہ ایک نادان ولی نے بادشاہ کے روبرو ہنسی کرائی تھی اور قصہ یوں ہے کہ کسی شہر میں ایک زاہد تھا جو نیک بخت اور متقی تو تھا مگر علم سے بے بہرہ تھا اور بادشاہ کو اس پر اعتقاد تھا اور وزیر بوجہ اس کی بے علمی کے اس کا معتقد نہیں تھا۔ ایک مرتبہ وزیر اور بادشاہ دونوں اس کے ملنے کیلئے گئے اور اس نے محض فضولی کی راہ سے اسلامی تاریخ میں دخل دے کر بادشاہ کو کہا کہ اسکندر رومی بھی اس امت میں بڑا بادشاہ گذرا ہے تب وزیر کو نکتہ چینی کا موقعہ ملا اور فی الفور کہنے لگا کہ دیکھئے حضور فقیر صاحب کو علاوہ کمالات ولایت کے تاریخ دانی میں بھی بہت کچھ دخل ہے۔ سو امام الزمان کو مخالفوں اور عام سائلوں کے مقابل پر اس قدر الہام کی ضرورت نہیں جس قدر علمی قوت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ شریعت پر ہر ایک قسم کے اعتراض کرنے والے ہوتے ہیں۔ طبابت کے رو سے بھی ہیئت کے رو سے بھی، طبعی کے رو سے بھی، جغرافیہ کے رو سے بھی اور کتب مسلمہ اسلام کے رو سے بھی اور عقلی بناء پر بھی اور نقلی بناء پر بھی اور امام الزمان حامی بیضۂ اسلام کہلاتا ہے۔ اور اس باغ کا خداتعالیٰ کی طرف سے باغبان ٹھہرایا جاتا ہے اور اس پر فرض ہوتا ہے کہ ہر ایک اعتراض کو دور کرے اور ہر ایک معترض کا منہ بند کر دے اور صرف یہ نہیں بلکہ یہ بھی اس کا فرض ہوتا ہے کہ نہ صرف اعتراضات دور کرے بلکہ اسلام کی خوبی اور خوبصورتی بھی دنیا پر ظاہر کردے۔ پس