ریواڑی کے میموریل کے جو اسی انجمن کے ہاتھوں کی کارروائی ہے کبھی مسلمانوں کے کانشنس نے یہ فتویٰ نہیں دیا کہ ایسی کتابوں کے مقابل پر میموریل بھیجنے ضروری ہیں۔ تخمیناً بیس برس کا عرصہ ہوا کہ میں نے کسی بشپ صاحب کی تحریر میں دیکھا تھا کہ پچاس یا چالیس برس کے عرصہ میں پادری صاحبوں کی طرف سے مخالف مذہبوں کے رد کرنے کے لئے چھ کروڑ کتاب لکھی گئی ہے۔ اس حساب سے معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کم سے کم ہندوستان میں عیسائی صاحبوں کی طرف سے نو۹ کروڑ ایسی کتاب شائع کی گئی ہوگی جس میں مسلمانوں اور دوسرے اہل مذاہب پر حملہ ہوگا۔ اور اگر بطور تنزل یہ بھی مان لیں کہ اس کے بعد کوئی کتاب تالیف نہیں ہوئی تو چھ کروڑ کتاب بھی کچھ تھوڑی نہیں اور اس بات میں بحث کرنے کی کچھ ضرورت نہیں کہ اس چھ کروڑ کتاب میں کس قدر سخت کلمے ہوں گے۔ کیونکہ جس قسم کے پادری صاحبان مذہبی کتابوں کے لکھنے میں پاک زبان اور مہذب ثابت ہوئے ہیں یہ تو کسی پر پوشیدہ نہیں۔ تو اس صورت میں اگر نقض امن کے اندیشہ
اس کو وعدہ دیا اور اس سے اسؔ کے جانے کے بعد بذریعہ خط درخواست کی کہ وہ اجازت دے کہ ہر ایک طور کی پیشگوئی جو اس کی نسبت ہو اس کو شائع کیا جائے۔ چنانچہ اس نے بذریعہ کارڈ کے تحریری اجازت بھیج دی جس کا مضمون یہ تھا کہ گو کیسی ہی پیشگوئی میری نسبت ہو میں اس سے ناراض نہیں ہوں بلکہ میں اس کو واہیات اور بکواس سمجھتا ہوں۔ اس اجازت کے بعد بار بار جناب الٰہی میں توجہ کرنے سے وہ الہامات اس کی نسبت ہوئے جن کو میں اس کی زندگی کے زمانہ میں ہی شائع کر چکا ہوں۔ اور ان دنوں میں اس نے بھی شوخی اور چالاکی سے میری نسبت یہ اشتہار شائع کیا کہ مجھے بھی یہ الہام ہوا ہے کہ یہ شخص تین برس کے اندر ہیضہ سے مر جائے گا۔ آخر جو خدا کی طرف سے تھا وہ ظہور میں آگیا۔ اور لیکھرام پیشگوئی کے منشاء کے موافق میعاد کے اندر اس فانی جہان کو چھوڑ گیا۔ اب کوئی منصف بتلائے کہ اس میں میرا کیا قصور تھا یہ تمام واقعات جو میں نے لکھے ہیں پچاس سے زیادہ اس کے گواہ ہوں گے۔ کیا دین اسلام کی اس قدر بھی عزت نہیں ہے کہ اس قدر گالیاں سننے کے بعد خدا کے نبیوں کی سنت کے موافق پیشگوئی سنائی جائے اور وہ بھی بہت سے اصرار کے بعد۔ کیا جس شخص نے اس قدر انکار اور سختی اور بدزبانی کے ساتھ پیشگوئی مانگی اور خدا نے اپنے رسول کی عزت کے لئے بتلا دی کیا ایسی پیشگوئی پوشیدہ رکھی جاتی اس خیال سے کہ پیسہ اخبار کا ایڈیٹر یا اس کے ہم مادہ لوگ اس سے