دوسرے طالب علموں کو دے رہی ہے؟ نہیں بلکہ بعض ان میں سے اسلام کے رسمی علوم سے بہت کچھ واقف بھی تھے مگر پھر بھی ان کے معلومات ایسے تھے کہ ان کو عیسائیت کے زہریلے اثر اور سوفسطائی اعتراضوں سے بچا نہ سکے اس لئے دانشمندی کا طریق یہ تھا کہ ان لوگوں کے حالات سےؔ عبرت حاصل کر کے اس زہریلی ہوا کا جو ہر طرف سے زور کے ساتھ چل رہی ہے کوئی احسن انتظام کیا جاتا۔ مگر کس نے اس طرف توجہ کی اور کس انجمن کو یہ خیال آیا؟ نہیں بلکہ ان لوگوں نے تو اور اور کارروائیاں شروع کر دیں جو مسلمانوں کی دینی حالت پر کچھ بھی نیک اثر ڈال نہیں سکتیں۔ اب بھی وقت ہے کہ اہل اسلام اپنے تئیں سنبھالیں اور وہ راہ اختیار کریں جو درحقیقت اس سیلاب کو روکتی ہو۔ لیکن یاد رہے کہ بجز اس کے اور کوئی بھی راہ نہیں کہ تمام اعتراضات اور ہر ایک قسم کے شبہات جمع کر کے اس کام کو کوئی ایسا آدمی شروع کرے جو اکمل اور اتم طور پر اس کو انجام دے سکے اور حتی الوسع اُن شرائط کا جامع ہو جن کو پہلے ہم لکھ چکے ہیں۔
غرض یہ کام ہے جو مسلمانوں کی ذریّت کو موجودہ زہریلی ہواؤں سے بچا سکتا ہے مگر یہ ایسے طرز سے ہونا چاہئیے کہ ہر ایک جواب قرآن شریف کے حوالہ سے ہوتا اس طرح پر جواب بھی ہو جائے اور حق کے طالبوں کو قرآن شریف کے اہم مقامات کی تفسیر پر بھی بخوبی اطلاع ہو جائے۔ یہ ہر ایک کا کام نہیں یہ ان لوگوں کا کام ہے جو اوّل شرائط ضروریہ تالیف سے متّصف ہوں اور پھر ہر ایک ملونی سے اپنی نیت اور عمل کو الگ کر کے خداتعالیٰ کی راہ میں اس کی مرضیات حاصل کرنے کے لئے یہ کوشش کریں اور یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی کتاب کم سے کم پچاس ہزار یا ساٹھ ہزار تک چھپوائی جائے اور تمام دیار اسلام میں مفت تقسیم ہو۔
غرض صرف امّہات مومنین جیسے ایک مختصر رسالہ کا رد لکھنا کافی نہیں ہے کارروائی پوری کرنی چاہئیے اور یقین رکھنا چاہئیے کہ ضرور خداتعالیٰ مدد دے گا۔ ہاں نرمی اور آہستگی اور تہذیب سے یہ کارروائی ہونی چاہئیے۔ ایسی سخت تحریر نہ ہو کہ پڑھنے والا رک جائے اور اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ لیکن اتنا بڑا کام بغیر جمہوری مدد کے کسی طرح انجام پذیر