ایک معمولی بات ہے کمال میں داخل نہیں۔ کمال انسانیت یہ ہے کہ ہم حتی الوسع گالیوں کے مقابل پر اعراض اور درگذر کی خو اختیار کریں۔ یہ بھی تو سوچو کہ پادری صاحبوں کا مذہب ایک شاہی مذہب ہے۔ لہٰذا ہمارے ادب کا ؔ یہ تقاضا ہونا چاہئیے کہ ہم اپنی مذہبی آزادی کو ایک طفیلی آزادی تصور کریں اور اس طرح پر ایک حد تک پادری صاحبوں کے احسان کے بھی قائل رہیں۔ گورنمنٹ اگر ان کو بازپُرس کرے تو ہم کس قدر بازپُرس کے لائق ٹھہریں گے۔ اگر سبز درخت کاٹے جائیں تو پھر خشک کی کیا بنیاد ہے۔ کیا ایسی صورت میں ہمارے ہاتھ میں قلم رہ سکے گی؟ سو ہوشیار ہو کر طفیلی آزادی کو غنیمت سمجھو اور اس محسن گورنمنٹ کو دعائیں دو جس نے تمام رعایا کو ایک ہی نظر سے دیکھا۔ یہ بالکل نامناسب اور سخت نامناسب ہے کہ پادریوں کی نسبت گورنمنٹ میں شکایت کریں۔ ہاں جو شبہات اور اعتراض اٹھائے گئے اور جو بہتان شائع کئے گئے ان کو جڑ سے اکھاڑنا چاہئیے اور وہ بھی نرمی سے اور حق اور حکمت کے معاون ہوکر دنیا کو فائدہ پہنچانا چاہئیے اور ہزاروں دلوں کو شبہات کے زندان سے نجات بخشنا چاہئیے۔ یہی کام ہے جس کی اب ہمیں اشد ضرورت ہے۔ یہ سچ ہے کہ مسلمانوں نے تائید اسلام کے دعوے پر جابجا انجمنیں قائم کر رکھی ہیں۔ لاہور میں بھی تین انجمنیں ہیں۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ باوجود یکہ عیسائیوں کی طرف سے دس کروڑ کے قریب مخالفانہ کتابیں اور رسائل نکل چکے ہیں اور تین ہزار کے قریب ایسے اعتراضات شائع ہو چکے جن کا جواب دینا مولویوں اور ان انجمنوں کا فرض تھا جنہوں نے ہر ایک رسالہ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہم مخالفوں کے سوالات کے جواب دیں گے ان حملوں کا ان انجمنوں نے کیا بندوبست کیا اور کون کونسی مفید کتاب دنیا میں پھیلائی۔ ہم بقول ان کے کافر سہی دجال سہی سخت گو سہی مگر ان لوگوں نے باوجود ہزارہا روپیہ اسلام کا جمع کرنے کے اسلام کی حقیقی مدد کیا کی۔ علوم مروّجہ کی تعلیم کا شاید بڑے سے بڑا نتیجہ یہ ہوگاکہ تا لڑکے تعلیم پا کر کوئی معقول نوکری پاویں۔ اور یتیموں کی پرورش کا نتیجہ بھی اس سے بڑھ کر