میںؔ ہمیں فرماتا ہے کہ تم آخری زمانہ میں اہل کتاب اور مشرکین سے دکھ دئیے جاؤ گے اور دلآزار باتیں سنو گے اس وقت اگر تم شر کا مقابلہ نہ کرو تو یہ بہادری کا کام ہوگا۔ سو میں ہر ایک مسلمان کو کہتا ہوں اور کہوں گا کہ تم شر کا مقابلہ ہرگز نہ کرو۔ خاک ہو جاؤ اور خدا کو دکھلاؤ کہ کیسے ہم نے حکم کی تعمیل کی۔ صبر کرنے والوں کے لئے بغیر کسی اشد ضرورت کے میموریل کی بھی کچھ ضرورت نہیں کہ یہ حرکت بھی بے صبری کے داغ اپنے اندر رکھتی ہے۔ ہاں خدا نے ہم پر فرض کر دیا ہے کہ جھوٹے الزامات کو حکمت اور موعظت حسنہ کے ساتھ دور کریں۔ اور خدا جانتا ہے کہ کبھی ہم نے جواب کے وقت نرمی اور آہستگی کو ہاتھ سے نہیں دیا اور ہمیشہ نرم اور ملائم الفاظ سے کام لیا ہے بجز اس صورت کے کہ بعض اوقات مخالفوں کی طرف سے نہایت سخت اور فتنہ انگیز تحریریں پاکر کسی قدر سختی مصلحت آمیز اس غرض سے ہم نے اختیار کی کہ تا قوم اس طرح سے اپنا معاوضہ پاکر وحشیانہ جوش کو دبائے رکھے۔ اور یہ سختی نہ کسی نفسانی جوش سے اور نہ کسی اشتعال سے بلکہ محض آیت3 3 ۱؂ پر عمل کر کے ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال میں لائی گئی اور وہ بھی اس وقت کہ مخالفوں کی توہین اور تحقیر اور بدزبانی انتہا تک پہنچ گئی اور ہمارے سیّد و مولیٰ سرور کائنات فخر موجودات کی نسبت ایسے گندے اور پُرشر الفاظ اُن لوگوں نے استعمال کئے کہ قریب تھا کہ ان سے نقضِ امن پیدا ہو تو اس وقت ہم نے اس حکمت عملی کو برتا کہ ایک طرف تو ان لوگوں کے گندے حملوں کے مقابل پر بعض جگہ کسی قدر مرارت اختیار کی اور ایک طرف اس نصیحت کا سلسلہ بھی جاری رکھا کہ اپنی گورنمنٹ محسنہ کی اطاعت کرو اور غربت اختیار کرو اور وحشیانہ طریقوں کو چھوڑ دو۔ سو یہ ایک حکیمانہ طرز تھی جو محض عام جوش کے دبانے کے لئے بعض وقت بحکم ضرورت ہمیں اختیار کرنی پڑی تا اسلام کے عوام اس طرح پر اپنے جوشوں کا تقاضا پورا کر کے غیر مہذب اور وحشیانہ طریقوں سے بچے رہیں اور یہ ایک ایسا طریق ہے کہ جیسے کسی کی افیون چھوڑانے کے لئے نربسی اس کو کھلائی جائے جو تلخی میں افیون سے مشابہ اور