سرکاؔ ر دولت مدار انگریزی کا خیر خواہ ہے۔ چنانچہ صاحب چیف کمشنر بہادر پنجاب کی چٹھی نمبری ۵۷۶ مورخہ ۱۰؍ اگست ۱۸۵۸ ؁ء میں یہ مفصل بیان ہے کہ میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیاں کیسے سرکار انگریزی کے سچے وفادار اور نیک نام رئیس تھے اور کس طرح ان سے ۱۸۵۷ ؁ء میں رفاقت اور خیر خواہی اور مدد دہی سرکار دولت مدار انگلشیہ ظہورمیں آئی اور کس طرح وہ ہمیشہ بدِل ہوا خواہ سرکار رہے۔ گورنمنٹ عالیہ اس چٹھی کو اپنے دفتر سے نکال کر ملاحظہ کر سکتی ہے۔ اور رابَرٹ کسٹ صاحب کمشنر لاہور نے بھی اپنے مراسلہ میں جو میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ کے نام ہے چٹھی مذکورہ بالا کا حوالہ دیا ہے جس کو میں ذیل میں لکھتا ہوں۔ ’’تہوّر و شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیاں بعافیت باشند۔ ازانجاکہ ہنگام مفسدہ ہندوستان موقوعہ۱۸۵۷ ؁ء از جانب آپ کے رفاقت و خیر خواہی و مدد دہی سرکار دولت مدار انگلشیہ درباب نگاہداشت سواران و بہم رسانی اسپان بخوبی بمنصہ ظہور پہنچی اور شروع مفسدہ سے آج تک آپ بدل ہوا خواہ سرکار رہے اور بباعث خوشنودی سرکار ہوا لہٰذا بجلدوی اس خیر خواہی اور خیر سگالی کے خلعت مبلغ دو صد روپیہ کا سرکار سے آپ کو عطا ہوتا ہے اور حسب منشاء چٹھی صاحب چیف کمشنر بہادر نمبری ۵۷۶ مورخہ ۱۰؍ اگست ۱۸۵۸ ؁ء پروانہ ھٰذا باظہار خوشنودی سرکار و نیکنامی و وفاداری بنام آپ کے لکھا جاتا ہے۔ مرقومہ تاریخ ۲۰؍ ستمبر ۱۸۵۸ ؁ء‘‘۔ اور اسی بارے میں ایک مراسلہ سر رابرٹ ایجرٹن صاحب فنانشل کمشنر بہادر کا میرے حقیقی بھائی مرزا غلام قادر کے نام ہے جو کچھ عرصہ سے فوت ہوگئے ہیں اور وہ یہ ہے۔ ’’مشفق و مہربان دوستان مرزا غلام قادر رئیس قادیان حفظہٗ۔ آپ کا خط ۲؍ ماہ حال کا لکھا ہوا ملاحظہ حضور اینجانب میں گذرا۔ مرزا غلام مرتضیٰ صاحب آپ کے والد کی وفات سے ہم کو بہت افسوس ہوا۔ مرزا غلام مرتضیٰ سرکار انگریزی کا اچھا خیرخواہ اور وفادار رئیس تھا۔ ہم آپ کے خاندانی لحاظ سے اسی طرح پر عزت کریں گے جس طرح تمہارے باپ وفادار کی