جب کبھی وہ حالت میسّر نہ ہو تب دعا کا قبول ہونا ضروری نہیں۔ وہ حالت یہ ہے کہ کسی کی نسبت نیک دعا یا بد دعا کے لئے اہل اللہ کا دل چشمہ کی طرح یکدفعہ پھوٹتا ہے اور فی الفور ایک شعلۂ نور آسمان سے گرتا اور اس سے اتّصال پاتا ہے۔ اور ایسے وقت میں جب دعا کی جاتی ہے تو ضرور قبول ہو جاتی ہے۔ سو یہی وقت مجھے اس بزرگ کے لئے میسر آیا۔ میں ان لوگوں کی روز کی تکذیبوں اور *** اور ٹھٹھے اور ہنسی کے دیکھنے سے تھک گیا۔ میری روح اب ربّ العرش کی جناب میں رو رو کر فیصلہ چاہتی ہے۔ اگر میں درحقیقت خداتعالیٰ کی نظر میں مردود اور مخذول ہوں جیسا کہ ان لوگوں نے سمجھا تو میں خود ایسی زندگی نہیں چاہتا جو *** زندگی ہو۔ اگر میرے پر آسمان سے بھی *** ہے جیسا کہ زمین سے *** ہے تو میری روح اوپر کی *** کی برداشت نہیں کر سکتی۔ اگر میں سچا ہوں تو اس بزرگ کی خداتعالیٰ سے ایسے طور سے پردہ دری چاہتا ہوں جو بطور نشان ہو اور جس سے سچائی کو مدد ملے۔ ورنہ *** زندگی سے میرا مرنا بہتر ہے۔ میرے صادق یا کاذب ہونے کا یہ آخری معیار ہے جس کو فیصلہ ناطق کی طرح سمجھنا چاہئیے۔ میں خدا سے دونوؔ ں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ اگر میں اس کی نظر میں عزیز ہوں تو وہ اس بزرگ کی ایسے طور سے پردہ دری کرے جو اب تک کسی کے خیال و گمان میں نہ ہو۔ میں جانتا ہوں کہ میرا خدا قادر اور ہر ایک قوت کا مالک ہے۔ وہ ان کے لئے جو اس کے ہوتے ہیں بڑے بڑے عجائبات دکھلاتا ہے۔ ایڈیٹر چودھویں صدی کی جس قدر شوخی ہے اس بزرگ کی حمایت سے ہے اور اس کی تمام توہین اور تحقیر کی تحریریں اسی بزرگ کی گردن پر ہیں۔ وہ ہنسی سے لکھتا ہے کہ ’’میں مخالفت سے نہ کاٹا جاؤں‘‘۔ خدا سے ہنسی کرنا کسی نیک