کہ گورنمنٹ اس کتاب کو شائع ہونے سے روک لے تا اس طرح پر ہم فتح پالیں۔ کیونکہ یہ فتح واقعی فتح نہیں ہے بلکہ ایسے حیلوں کی طرف دوڑنا ہمارے عجز اور داماندگی کی نشانی ہوگی اور ایک طور سے ہم جبر سے منہ بند کرنے والے ٹھہریں گے۔ اور گو گورنمنٹ اس کتاب کو جلادے، تلف کرے کچھ کرے مگر ہم ہمیشہ کے لئے اس الزام کے نیچے آجائیں گے کہ عاجز آکر گورنمنٹ کی حکومت سے چارہ جوئی چاہی اور وہ کام لیا جو مغلوب الغضب اور ؔ جواب سے عاجز آجانے والے لوگ کیا کرتے ہیں۔ ہاں جواب دینے کے بعد ہم ادب کے ساتھ اپنی گورنمنٹ میں التماس کر سکتے ہیں کہ ہر ایک فریق اس پیرایہ کو جو حال میں اختیار کیا جاتا ہے ترک کر کے تہذیب اور ادب اور نرمی سے باہر نہ جائے۔ مذہبی آزادی کا دروازہ کسی حد تک کھلا رہنا ضروری ہے تا مذہبی علوم اور معارف میں لوگ ترقی کریں۔ اور چونکہ اس عالم کے بعد ایک اور عالم بھی ہے جس کے لئے ابھی سے سامان چاہئیے۔ اس لئے ہر ایک حق رکھتا ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ ہر ایک مذہب پر بحث کرے اور اس طرح اپنے تئیں اور نیز بنی نوع کو نجات اخروی کے متعلق جہاں تک سمجھ سکتا ہے اپنی عقل کے مطابق فائدہ پہنچاوے۔ لہٰذا گورنمنٹ عالیہ میں اس وقت ہماری یہ التماس ہے کہ جو انجمن حمایت اسلام لاہور نے میموریل گورنمنٹ میں اس بارے میں روانہ کیا ہے وہ ہمارے مشورہ اور اجازت سے نہیں لکھا گیا بلکہ چند شتاب کاروں نے جلدی سے یہ جرأت کی ہے جو درحقیقت قابل اعتراض ہے۔ ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ ہم تو جواب نہ دیں اور گورنمنٹ ہمارے لئے عیسائی صاحبوں سے کوئی بازپُرس کرے یا ان کتابوں کو تلف کرے بلکہ جب ہماری طرف سے آہستگی اور نرمی کے ساتھ اس کتاب کا رد شائع ہوگا تو خود وہ کتاب اپنی قبولیت اور وقعت سے گر جائے گی اور اس طرح پر وہ خود تلف ہو جائے گی۔ اس لئے ہم بادب ملتمس ہیں کہ اس میموریل کی طرف جو انجمن مذکور کی طرف سے بھیجا گیا ہے گورنمنٹ عالیہ ابھی کچھ توجہ نہ فرماوے*۔ کیونکہ اگر ہم گورنمنٹ عالیہ سے یہ فائدہ اٹھاویں *ہم دوبارہ عرض کرتے ہیں کہ انجمن کا یہ میموریل بعد از وقت ہے کیونکہ مؤلف اُمّہات مؤمنین کی طرف سے جوضرر روکنے کے لائق تھا وہ ہمیں پہنچ چکا اور پورے طور پر پنجاب ہندوستان میں اس کتاب کی اشاعت ہوگئی سو ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اب ہم اپنی گورنمنٹ محسنہ سے کیا مانگیں اور وہ کیا کرے۔ منہ