تھا کہ خبر نہیں۔ سیدھا بنگلہ پر تھانہ دار لے گیا۔ بموجب حکم کپتان صاحب کے تھانہ دار نے مجھ سے دریافت کیا۔ وہ دُوسرا تھانہ دار تھا۔ درخت کےؔ نیچے جو احاطہ بنگلہ میں ہے تھانہ دار مجھے لے گئے اور مجھ سے دریافت کیا۔ قریب پچیس گز کے درخت دُور تھا۔ انہوں نے مجھے کہاکہ تو جُھوٹ بولتا ہے۔ سچ نہیں بولتا۔ مَیں نے جواب دیا کہ مَیں سچ کہتا ہوں جو لکھایا ہے سچ ہے۔ پھر انہوں نے کپتان صاحب سے کہا کہ یہ لڑکا سچ نہیں بتلاتا ہے۔ صاحب نے حکم دیا کہ میرے روبروئے لاؤ۔ محمد بخش پوچھنے والوں میں نہ تھا۔ صرف ایک آدمی پوچھتا تھا جو دوسرا تھانہ دار ہے نام نہیں جانتا۔ وہ تھانہ دار نہیں پوچھتا تھا جو گاڑی میں لایا تھا۔ محمد بخش نے کوئی بات مجھ سے نہیں پوچھی تھی۔ محمد بخش اور دوسراتھانہ دار اور ایک اور سپاہی یا منشی وہاں تھے۔ وہ منشی ہندو تھا۔ وہ منشی کسی مقدمہ کے فیصلہ ہونے کا ذکر کرتا تھا۔ اس لئے معلوم ہوا کہ وہ منشی ہے۔ مجھے محمد بخش نے نہیں کہا تھا کہ تم نے مرزا صاحب کے برخلاف لکھوانے میں گناہ کیا ہے۔ مجھے کوئی آدمی مرزا صاحب کا نہیں ملا۔ صرف چار پانچ منٹ درخت کے نیچے گفتگو ہوئی تھی۔ تین چار قدم کے فاصلہ پر چارپائی تھی اُس پر پھر مَیں لمبا پڑا رہا تھا۔ ایک دو گھنٹے کے بعد نوکر اُٹھا اور مظہر کو کپتان صاحب کے رُوبروئے حاضر کیا گیا۔ میرے پاس کوئی آدمی نہیں آیا۔ اور نہ کسی نے تھانہ دار سے گفتگو کی تھی۔ صریح باطل ہے ۔ لہٰذا قطعی طور پر یہ مانناپڑا کہ ملعون سے مراد وہ شخص ہے جس ؔ کی روح کو خدا کے قرب میں جگہ نہ ملے اور خدا کی طرف نہ اٹھایا جائے ۔ اور میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ توریت کے رو سے جو شخص لکڑی پر لٹکایا جائے یعنی مصلوب ہو وہ *** ہے ۔ اور اسی سے یہود نے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ نعوذباللہ حضرت عیسٰی علیہ السلام *** ہیں ۔ اور اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ *** کو جسم سے کچھ تعلق نہیں اور نہ عدم *** سے جسم کا آسمان پر جانا مانا گیا ہے ۔ لہٰذا یہود کا اعتراض حضرت مسیح کی نسبت صرف یہ تھا کہ وہ ان کو ملعون ٹھہرا کراس مقام قرب اور رحمت سے بے نصیب ٹھہراتے تھے جہاں ابراہیم اور