دو مہتر میرے ساتھ مکان میں بند کئے گئے تھے۔ وہ بھی سکھلاتے رہتے تھے۔ قطب دین کی بابت مجھے وارث دین عبدالرحیم و پریم داس نے کہا تھا کہ اس کا نام لو۔ وکیل صاحب (لالہ رام بھج) نے انارکلی میں مجھ سے پوچھا تھا کہ تمہارے ساتھ کوئی اور آدمی بھی تھا یا نہ۔ جب تک کسی اور آدمی کا ذکر نہ ہووے تم پرندہ نہ تھے کہ مار کر اڑ جاتے عدالت باور نہیں کرے گی۔ اس پر وارث دین وغیرہ نے قطب دین کی شمولیت کی بابت مجھے سکھلایا تھا* ۔میں نے وکیل صاحب کو پتہ قطب الدین کا نہیںؔ بتلایا تھا۔ میرے ہاتھ پر پریم داس نے کرمونکی ڈیوڑھی اور قطب الدین کا پتہ لکھ دیا تھا کہ جب اظہار دو گے یاد رکھنا۔ پنسل سے لکھا تھا۔ پنسل وارث دین کی تھی۔ یہی پنسل ہے جو اس وقت وکیل کے ہاتھ میں ہے اور اسی سے لکھا تھا۔ نوٹ۔( تسلیم کیا گیا کہ پنسل وارث دین کی ہے)۔ اور بھی بہت پنسلیں سکول میں تھیں۔ وارث دین وغیرہ قطب دین کا حلیہ بیان کرتے تھے مگر میں اس کو مطلق نہیں جانتا۔ رات کو انہوں نے مجھ سے حلیہ وغیرہ قطب دین کا ذکر کیا تھا۔وکیل سے میں نے حلیہ وغیرہ کا ذکر نہیں کیا تھا۔ بھگت پریم داس، وارث دین اور عبدالرحیم کے سکھلانے پر میں نے بیان کیا تھا کہ مرزا صاحب کو مٹھیاں بھرا کرتا تھا۔ میں مرزا صاحب کے مکان پر کبھی نہیں گیا تھا صرف ایک دفعہ ان کو مسجد میں دیکھا تھا۔ صرف ان لوگوں کے کہنے سے سب بیان کے ؔ سوال سے جو حقیقت میں ان کے مذہب کو پاش پاش کرتا ہے ایسے لاجواب ہوگئے کہ جن جن لوگوں نے اس تحقیق پر اطلاع پائی ہے وہ سمجھ گئے ہیں کہ اس اعلیٰ درجہ کی تحقیق نے صلیبی مذہب کو توڑ دیا ہے۔ بعض پادریوں کے خطوط سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ اس فیصلہ کرنے والی تحقیق سے نہایت درجہ ڈر گئے ہیں اور وہ سمجھ گئے ہیں کہ اس سے ضرور صلیبی مذہب کی بنیاد گرے گی۔ اور اس کا گرنا نہایت ہولناک ہوگا۔ اور وہ لوگ درحقیقت اس مثل کے مصداق ہیں کہ یُرْجی برء مَنْ جرحہ السنان۔ ولا یرجی برء من مزّقہ * اس جگہ سے ظاہر ہے کہ دیسی عیسائی کس چلن کے آدمی ہیں اور جھوٹ کو کیسا شیر مادر سمجھتے ہیں اور کیسے جھوٹے منصوبے ظلم کرنے کے لئے باندھتے ہیں۔ منہ