نقلؔ بیان عبدالحمید بصیغہ فوجداری باجلاس کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ مرجوعہ فیصلہ نمبر مقدمہ نمبر بستہ ۹؍ اگست ۷ ۹ء متدائرہ ۳۳ از محکمہ سرکار بذریعہ مسٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ تعزیرات ہند یہ عبارت انگریزی چٹھی سے ترجمہ کی گئی ہے۔ اس بیان کی بنا پر جو عبدالحمید نے ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس کے آگے بیان کیا ہے عبدالحمید کو بطور ایک سرکاری گواہ کے پھر شہادت کے لئے بلایا گیا اور اس کا بیان لیا گیا بیان عبدالحمید گوا ہ باقرار صالح ۲۰؍ اگست ۹۷ ؁ بسوال عدالت میں نے کپتان صاحب پولیس کے روبروئے بٹالہ میں ایک بیان کیا تھا۔ ایک تھانہ دار مجھ کو صاحب کے پاس لایا تھا۔ نام نہیں جانتا۔ اس وقت میں انارکلی (بٹالہ) میں تھا۔ ہم تین آدمی گاڑی میں تھے۔ ایک مَیں ایک تھانہ دار اور ایک سائیس۔ اس وقت میں وارث دین عیسائی بھگت پریم داس اور دو پولیس سپاہیوں کی حفاظت میں تھا۔ تھانہ دار سیدھا صاحب کے پاس مجھے لے گیا تھا۔ میں سب سے پہلے امرتسر ہال دروازہ میں نور الدین عیسائی کے پاس دستخط حاکم 21/8/97 مہر عدالت باتؔ تمام تاریخ جاننے والوں کو معلوم ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے ہی وقت میں آئے تھے کہ جب اسرائیلی قوموں میں بڑا تفرقہ پیدا ہوگیا تھا اور ایک دوسرے کے مکفر اور مکذب ہوگئے تھے۔ اسی طرح یہ عاجز بھی ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب اندرونی اختلافات انتہا تک پہنچ گئے اور ایک فرقہ دوسرے کو کافر بنانے لگا۔ اس تفرقہ کے وقت میں امّت محمدیہ کو ایک حَکَم کی ضرورت تھی سو خدا نے مجھے حَکَم کر کے بھیجا ہے۔ اور یہ ایک عجیب اتفاق ہوگیاہے جس کی طرف نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کا اشارہ پایا جاتا ہے کہ جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت موسیٰ سے تیرہ سو برس Ruhani Khazain Volume 13. Page: 258