دستخط حاکم
15/8/97
مہر عدالت
نقلؔ بیان پریم داس مشمولہ مثل فوجداری باجلاس کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ
سرکار بذریعہ ڈاکٹر صاحب ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزا غلام احمد قادیانی۔ جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری
بیان پریمداس باقرار صالح واقعہ ۱۳؍ اگست ۱۸۹۷ ء
میں قریب ۱۶سال یا کم و بیش سے عیسائی ہوں ڈاکٹر صاحب کے ماتحت3 سال ہوگئے ہیں۔ اس و قت بیاس پر تعینات ہوں۔ عبد الحمید ۲۱۔۲۲ جولائی ۹۷ کو میرے پاس بھیجا گیا
کی ؔ پیشگوئیوں سے منکر ہوگیا جو اسلامی تواریخ میں اعلیٰ درجہ کے تواتر پر ہے کیونکہ جب کہ ان لوگوں نے جو نو تعلیم یافتہ اور محققانہ طرز پر خیالات رکھتے تھے ان لوگوں کی یہ تقریریں سنیں کہ ’’آخری زمانہ میں ایک دجّال پیدا ہوگاجس کا گدھا قریباً تین سو ہاتھ لمبا ہوگا اور وہ دجال اپنے اختیار سے مینہ برسائے گا اور آفتاب نکالے گا اور مُردے زندہ کرے گا اور بہشت اور دوزخ اس کے ساتھ ہوں گے اور خداکی تمام چیزوں اور دریاؤں اور ہواؤں اور آگ اور خاک اور چاند اور سورج وغیرہ مخلوقات پر اس کی حکومت ہوگی اور ایک آنکھ سے کانا اور ایک آنکھ میں پھولا ہوگا اور خدا کے پرستار اس کے وقت میں تنگی اور اِمساک باراں سے مریں گے۔ ان کی دعا بھی قبول نہیں ہوگی اور دجّال کے پرستار بڑے مزے میں ہوں گے۔ عین وقتوں پر دجّال ان کی کھیتیوں میں مینہ برسادے گا اور پھر آسمان سے مسیح بڑی شان سے اترے گا۔ دائیں بائیں اس کے فرشتے ہوں گے جہاں تک اس کا سانس پہنچے گا کافر لوگ اس سے مریں گے مگر دجّال کو اپنے سانس سے مار نہیں سکے گا۔ آخر بڑی جدوجہد اور جاں کا ہی سے حربہ کے ساتھ اس کا کام تمام کرے گا‘‘۔ ان تقریروں سے نو تعلیم یافتہ لوگ بہت گھبرائے اور درحقیقت گھبرانے کا محل تھا۔ کیونکہ ا گر دجّال ایسا ہی ذوالاقتدار ہے تو جس حالت میں کہ مخلوق پرست لوگ بغیر اس کے کہ اپنے معبودوں سے کوئی خدائی کا کرشمہ دیکھیں ناحق مخلوق پرستی میں مبتلا ہوگئے ہیں اور کروڑہا تک ان کی نوبت پہنچ گئی
* بارہ تیرہ سال ہوگئے