نئی بن رہی تھی وہاں میں نے چٹھی لکھی تھی۔ بھگت رام کے سامنے لکھی تھی۔ دو راج دو تین مزدور بھی وہاں تھے۔ بھگت سے پیسہ یا ٹکٹ خط روانہ کرنے کے واسطے نہیں مانگے تھے۔ اقبال ۱۔۵ کے قریب لکھا تھا بیٹھنے کے کمرہ میں خط لکھا تھا۔ کھانے والے کمرے کے پاس ہے۔ (پھر کہا کہ) پتہ نہیں کھانے والا کمرہ کون ہے۔ میرے اقبال لکھنے کے وقت اسٹیشن ماسٹر، تاربابو او رڈاک بابو موجود تھے (پھر کہا کہ) لکھ چکا تھا۔ دستخط کر رہا تھا جب وہ آئے تھے۔ دو تین آدمی اور تھے جن کے روبرو لکھا تھا۔ وہ عبدالرحیم، بھگت رام۔ شیخؔ وارث تھے اور ڈاکٹر صاحب بھی تھے۔ بیاس میں مظہر نے کسی سے کی حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبوت کے لوازم سے کیونکر محروم رہ سکتے ہیں؟! غرض ان لوگوں نے یہ عقیدہ اختیار کر کے چار طور سے قرآن شریف کی مخالفت کی ؔ ہے۔ اور پھر اگر پوچھا جائے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے؟ تو نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں اور نہ کوئی حدیث دکھلا سکتے ہیں۔ صرف نزول کے لفظ کے ساتھ اپنی طرف سے آسمان کا لفظ ملا کر عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ مگر یاد رہے کہ کسی حدیث مرفوع متّصل میں آسمان کا لفظ پایا نہیں جاتا اور نزول کا لفظ محاورات عرب میں مسافر کے لئے آتا ہے اور نزیل مسافر کو کہتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے ملک کا بھی یہی محاورہ ہے کہ ادب کے طور پر کسی وارد شہر کو پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کہاں اترے ہیں اور اس بول چال میں کوئی بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ یہ شخص آسمان سے اترا ہے۔ اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح حدیث تو کیا کوئی وضعی حدیث بھی ایسی نہیں پاؤ گے جس میں یہ لکھاہو کہ حضرت عیسیٰ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئیں گے۔ اگر کوئی ایسی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپیہ تک تاوان دے سکتے ہیں اور توبہ کرنا اور تمام اپنی