صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر امرتسر غسل خانہ کا لفظ نہیں لکھوایا تھا۔ صبح کی نماز پڑھ کر تھوڑا سا دن نکل آیا تھا جب قادیاں سے آیا تھا اسماعیل بیگ کے سالے کا یکہ شاید تھا۔ اسی روز ریل پر چڑھ کر امرتسر چلا گیا تھا۔ ۱۱؍ بجے وہاں پہنچا۔ سیدھا قطب الدین کے پاس گیا۔ آدھ گھنٹہ اس کے پاس ٹھہراؔ ۔ تاریخ نہیں بتلا سکتا۔ قطب الدین نے پتہ ڈاکٹر صاحب کے مکان کا دیا۔ کوٹھی پر میں جا ملا۔ ہال بازار مسجد میں سو رہا تھا۔ قریب تین بجے کے کوٹھی پر گیا تھا۔ دو آدمی میرے ساتھ نہ تھے۔ دس بارہ منٹ میں کوٹھی پر پہنچ گیا۔ اپنے دفتر کے کمرہ میں ڈاکٹر صاحب تھے۔ اوّل خانساماں کو ملا پھر بیرہ کو۔ اس نے صاحب کو اطلاع دی۔ مجھے اندر بلایا گیا۔ ایک سردار کسی کام کے واسطے وہاں کھڑا تھا۔ چٹھی لیکر چلا گیا تھا۔ اندر جاتے ہی میں نے کہا کہ میں متلاشی ہوں عیسائی ہونے آیا ہوں۔ صاحب نے پوچھا کہاں سے آیا ہے۔ میں نے کہا کہ قادیاں سے۔ پھر میں نے اپنا ہندونام رلارام بیان کیا اور سب حالات بیان کئے جو پہلے بیان کر چکا ہوں۔ مگر وہ سارا بیان جھوٹ تھا۔ میرے دل میں تھوڑا خیال ہوا تھا کہ میں قتل نہیں کروں گا۔ تین چار روز ہیں۔ دوسرے یہ کہ قرآن شریف صاف اور صریح لفظوں میں فرماتا ہے کہ کوئی انسان بجز زمین کے کسی اورجگہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ 33 ۱؂ یعنی تم زمین میں ہی زندہ رہو گے اور زمین میں ہی مرو گے اور زمین سے ہی نکالے جاؤ گے۔ مگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ ’’نہیں اس زمین اور کرہ ہوا سے باہر بھی انسان زندہ رہ سکتا ہے۔ جیسا کہ اب تک جو قریباً انیسویں صدی گذرتی ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں‘‘۔ حالانکہ زمین پر جو قرآن کے رو سے انسانوں کے زندہ رہنے کی جگہ ہے باوجود زندگی کے قائم رکھنے کے سامانوں کے کوئی شخص انیس سو برس تک ابتدا سے آج تک کبھی زندہ نہیں رہا تو پھر آسمان پر انیس سو برس تک زندگی بسر کرنا باوجود اس امر کے کہ قرآن کے رو سے ایک قدر قلیل بھی بغیر زمین کے انسان زندگی بسر نہیں کر سکتا