اور مجھے رکھو۔ انہوں نے کہا کہ گھر جاؤ اور بائبلؔ پڑھو۔ مجھ کو رکھا نہ تھا۔ پھر میں جہلم چلا گیا۔ اس واسطے کہ میرا چچا میرے عیسائی ہونے سے ناراض تھا۔ مرزا صاحب نے میرے شکوک رفع کر دئیے تھے۔ چچا کو راضی کرنے کے واسطے گیا تھا۔ پھر دوبارہ جوبلی کے دوچار روز بعدمیں مظہر قادیاں گیا تھا کہ مرزا صاحب نے پہلی دفعہ بیعت نہیں کیا تھا۔ ۱۷۔۱۸ یوم وہاں رہا۔ جانے کے دو روز بعد دست بیع مرزاصاحب سے ہوا۔ بہت سارے آدمی موجود تھے۔ حکیم نور الدین۔ حکیم فضل الدین وغیرہ قریب33 آدمی تھے۔ اوپر والی مسجد میں بیعت کی تھی۔ بیعت سے ۹۔۱۰ روز بعد مرزا صاحب زنانہ مکان کے بالاخانہ میں لے گئے تھے۔ جب ظہر کی نماز ہو چکی تو مرزا صاحب نے مجھے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو۔ جب لوگ سارے چلے گئے تو دروازہ کی راہ سے مرزا صاحب مجھے اس کمرہ میں لے گئے۔ کوئی آدمی نہ تھے۔ اس وقت اوپر کے حصہ مسجد میں نہ تھا۔ اندر جاکر مجھے مرزا صاحب نے بٹھلا دیا اور کہا کہ تم امرتسر میں جاؤ اور اپنے آپ کو ہندو ظاہر کرنا اور کلارک صاحب کو پتھر مار کر مار دینا۔ میں نے اقرار کرلیا۔ اندر اس لئے کوئی بھی نبی زندہ نہیں ہے سب فوت ہوگئے۔ اور یہ آیت پڑھی کہ 33 ۱؂ اور کسی نے ان کے اس بیان پر انکار نہ کیا۔ پھر ماسوا اس کے امام ماؔ لک جیسا امام عالم حدیث و قرآن و متقی اس بات کا قائل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔ ایسا ہی امام ابن حزم جن کی جلالت شان محتاج بیان نہیں قائل وفات مسیح ہیں۔ اسی طرح امام بخاری جن کی کتاب بعد کتاب اللّٰہ اصحّ الکتبہے، وفات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ ایسا ہی فاضل و محدث و مفسر ابن تیمیہ و ابن قیّم جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔ ایسا ہی رئیس المتصوفین شیخ محی الدین ابن العربی صریح اور صاف لفظوں سے اپنی تفسیر میں وفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصریح فرماتے ہیں۔ اسی طرح اور بڑے بڑے فاضل اور محدث اور مفسر برابر یہ گواہی دیتے آئے ہیں اور فرقہ معتزلہ کے تمام اکابر اور