آریہؔ کا نام امرتسر میں یا اور جگہ ہمیں معلوم نہیں جس نے مجھے کہا ہو کہ مرزا صاحب نے لیکھرام کو قتل کیا یا کرایا ہے۔ لالہ رام بھج دت جو ہماری طرف سے وکیل ہے اور موجود عدالت ہے آریہ ہے کوئی فیس ہم نے اِن کو نہیں دی۔ اشتہار حرف P.O.N.M. ہم نے لالہ رام بھج سے لئے ہیں۔ آج سے پہلے قبل از تقرری بطور پیروکار منجانب سرکار ہے ہم بھی آپ کو گواہ سمجھتے تھے یہ بھی ہم کو معلوم ہے کہ مسلمان بھی عموماً مرزا صاحب کے برخلاف ہیں۔ (اوّل گواہ نے جواب نہ دیا پھر اپنے وکیل سے یہ صلاح لے کر جوابدوں یا نہ دوں کہا) کہ مرزا صاحب کی نسبت میری ذاتی رائے یہ ہے کہ وہ ایک خراب فتنہ ا نگیز اور خطرناک آدمی ہے اچھا نہیں ہے مرزا صاحب کی اپنی تصنیفات سے ہم نے رائے مذکور قائم کی ہے۔ عیسوی مذہب کے برخلاف بھی مرزا صاحب نے
لائق نہیں ہو سکتا۔ لیکن میں ہر ایک کو یہ صلاح نہیں دیتا کہ ایسا کرے اور نہ میں نے اپنی مرضی سے ایسا کیا۔ میں نے کئی جاہل درویش ایسے بھی دیکھے ہیں جنہوں نے شدید ریاضتیں اختیار کیں اور آخریبوست دماغ سے وہ مجنون ہوگئے اور بقیہ عمر ان کی دیوانہ پن میں گذری یا دوسرے امراض سل اور دق وغیرہ میں مبتلا ہوگئے۔ انسانوں کے دماغی قویٰ ایک طرز کے نہیں ہیں۔ پس ایسے اشخاص جن کے فطرتاً قویٰ ضعیف ہیں ان کو کسی قسم کا جسمانی مجاہدہ موافق نہیں پڑ سکتا اور جلد تر کسی خطرناک بیماری میں پڑ جاتے ہیں۔ سو بہتر ہے کہ انسان اپنی نفس کی تجویز سے اپنے تئیں مجاہدہ شدیدہ میں نہ ڈالے اور دین العجائز اختیار رکھے۔ ہاں اگر خداتعالیٰ کی طرف سے کوئی الہام ہو اور شریعتِ غرّاء اسلام سے منافی نہ ہو تواس کو بجا لانا ضروری ہے لیکن آج کل کے اکثر نادان فقیر جو مجاہدات سکھلاتے ہیں ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ پس ان سے پرہیز کرنا چاہیئے۔
یاد رہے کہ میں نے کشف صریح کے ذریعہ سے خداتعالیٰ سے اطلاع پاکر جسمانی سختی کشی کا حصہ آٹھ یا نو ماہ تک لیا اور بھوک اور پیاس کا مزہ چکھا اور پھر اس طریق کو علی الدوام بجا لانا چھوڑ دیا اور کبھی کبھی اس کو اختیار بھی کیا یہ تو سب کچھ