بھیجا تھا جس کا پتہ نہیں کون تھا۔ عبدالحمید نے مجھ سے کہا تھا جب وہ امرتسر آیا تھا کہ میں سات سال ہندو سے مسلمان ہوکر مرزا صاحب کے پاس رہا تھا اور تعلیم پاتا رہا تھا۔ مجھ کو یہ معلوم نہیں کہ برہان الدین و لقمان کے درمیان ناراضگی ہے یا نہ۔ برہان الدین جو خاندان کا سرگروہ مرزا صاحب کا مرید ہے۔ بجواب وکیل مدعا علیہ۔ عبدالمجید ۴۔۵ بجے شام کے میری کوٹھی پر ۱۶؍ جولائی ۹۷ ؁ کو مجھے آکر ملا تھا میں اپنے دفتر کے کمرے میں تھا اس نے ہمارے پوچھنے پر کون ہو کیوں آئے ہو اس نے اپنا ؔ نام وغیرہ سلسلہ وار بتلایا۔ آدھ گھنٹہ تک میرے پاس بیٹھا رہا تھا۔ جو کچھ اس نے مجھ سے گفتگو کی تھی وہ میں نے اپنے بیان میں لکھا دی۔ اس کے علاوہ اور کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ عبدالحمید کے آتے ہی شکل دیکھ کر ہم کو اس کی نسبت شک ہوا کہ یہ وہ شخص ہے جس کو مرزا صاحب نے میرے قتل کے واسطے بھیجا ہے۔ میں نے کسی کو یعنی پولیس وغیرہ کو اطلاع نہیں دی۔ مگر اپنے لوگوں کو کہا کہ اس کو رکھو اور دھیان رکھو مگر اپنا پتہ اس کو نہ دو۔ عبدالحمید کے پاس کوئی ہتھیار اور کوئی چیز نہیں تھی۔ ہم نے کسی سے یہ ذکر نہیں کیا کہ ہمارا اشتباہ اس شخص کی نسبت ہے کہ وہ ہم کو قتل کرے گا۔ باہر کمرے کے دو تین آدمی تھے مگر ہماری باتیں نہیں سنتے تھے۔ میرا حق ہے کہ اگر کوئی شخص مارنے کے واسطے بھی آوے میں اس کو تعلیم عیسوی دوں خواہ ہم کو شبہ ہو کہ وہ عمر بگذشت و نماند ست جز ایّامے چند بہ کہ در یاد کسے صبح کنم شامے چند اور میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ وہ ایک اپنا بنایا ہوا شعر رقت کے ساتھ پڑھتے تھے اور وہ یہ ہے۔ ازدرِ تو اے کسِ ہر بیکسے۔ نیست امیدم کہ روم نا امید۔ اور کبھی درد دل سے یہ شعر اپنا پڑھا کرتے تھے۔ بآب دیدۂ عشاق وخاکپائے کسے۔ مرادلے ست کہ درخوں تپد بجائے کسے۔ حضرتؔ عزت جلّ شانہٗ کے سامنے خالی ہاتھ جانے کی حسرت روز بروز آخری عمر میں ان پر غلبہ کرتی گئی تھی بارہا افسوس سے کہا کرتے تھے کہ دنیا کے بے ہودہ خرخشوں کے لئے میں نے اپنی عمر ناحق ضائع کر دی۔ ایک مرتبہ حضرت والد صاحب نے یہ خواب بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم