کے حق میں بہت ہی بُرا بکتا تھا۔ دوم وہ بپتسمہ لینے کی ازحد خواہش رکھتا تھا اور سوم وہ بلاوجہ اور بلاطلبی ہماری کوٹھی پر آکر گشت اور سیر اور ملاقات چاہتا تھا۔ اور باوجودیکہ 3 سال کی عمر میں وہ محمدی ہوا تھا۔ اپنی گوت (برہمن) سے ناواقف تھا اور نانکوں سے ناواقف تھا اور مختلف اشخاص سے مختلف قسم کی اپنی نسبت کہانی بیان کی۔ مثلاً ایک شخص سے اس نے اپنے دوست ایسرداس نام کو بجائے کرپارام کے بتلایا۔ بعد انقضائے پانچ روز ہم نے اپنے ہسپتال واقع بیاس پر اسے بھیج دیا۔ وہاں بھی میرے طالب علم پڑھتے ہیں۔ جاتے ہی اس نے ایک خط مولوی نور الدین کے نام جو میرزا صاحب کا دہنے ہاتھ کا فرشتہ ہے لکھا۔ یہ اُسیؔ شخص کی زبانی معلوم ہوا تھا کہ خط اُس نے لکھا ہے۔ مطلب اس خط کا یہ تھا کہ میں عیسائی ہونے لگا ہوں آپ روک سکتے ہیں تو روک لیں۔ یہ مطلب بھی اُس کی زبانی ہی معلوم ہوا تھا اور دیگر شہادت بھی ہے۔ باعث خط لکھنے کا یہ تھا کہ ہم نے اس کو کہا تھا۔ کہ یہ بہتر نہ ہوگا کہ ہم مرزا صاحب کو لکھیں کہ یہ شخص عیسائی ہونا چاہتا ہے۔ کل کو یہ نہ کہیں کہ تم ان کے چور ہو۔ اس نے کہا کہ نہیں میں خود ہی خط لکھتا ہوں۔ اور اس نے خط لکھ کر بیرنگ ڈاک میں ڈالا۔ اور مجھے خط کے ذریعہ سے خط لکھنے سے منع کیا تھا جب تک میرے بپتسمہ کا وقت ہو۔ وہ خط
اتفاق ہوا۔ ان کا نام گلؔ علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیاں میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا۔ اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خداتعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔ میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہئے کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے اور نیز ان کا یہ بھی مطلب تھا کہ میں اس شغل سے الگ