بعدالت اے ای مارٹینو صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر مستغیث قیصرہ ہند زیر دفعہ ۱۰۷ بنام مرزا غلام احمد صاحب قادیاں حُکم عبدالحمید اور ڈاکٹر کلارک کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے عبدالحمید کو ڈاکٹر کلارک ساکن امرتسر کے قتل کرنے کی ترغیب دی۔ اس بات کے یقین کرنے کے لئے وجہ ہے کہ مرزا غلام احمد مذکور نقض امن کا مرتکب ہوگا۔ یا کوئی قابل گرفت فعل کرے گا۔ جو باعث نقضؔ امن اس ضلع میں ہوگا۔ اس بات کی خواہش کی گئی ہے کہ اس سے حفظ امن کے لئے ضمانت طلب کی جائے۔ واقعات اس قسم کے ہیں کہ جس سے اس کی گرفتاری کے لئے وارنٹ کا شائع کرنا زیر دفعہ ۱۱۴ ضابطہ فوجداری ضروری معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا میں اس کی گرفتاری کے لئے وارنٹ جاری مگر کاغذات سے یہ پتہ ملتا ہے کہ اس ملک میں بھی وہ معزز امراء اور خاندان والیان ملک میں سے تھے اور انہیں کسی قومی خصومت اور تفرقہ کی وجہ سے اس ملک کو چھوڑنا پڑا تھا۔ پھر اس ملک میں آکر بادشاہ وقت کی طرف سے بہت سے دیہات بطور جاگیر ان کو ملے۔ چنانچہ اس نواح میں ایک مستقل ریاست ان کی ہوگئی۔ سکھوں کے ابتدائی زمانہ میں میرے پردادا صاحب میرزا گل محمد ایک نامور اور مشہور رئیس اس نواح کے تھے۔ جن کے پاس اس وقت3 گاؤں تھے اور بہت سے گاؤں سکھوںؔ کے متواتر حملوں کی وجہ سے ان کے قبضہ سے نکل گئے تاہم ان کی جوانمردی اور فیاضی کی یہ حالت تھی کہ اس قدر قلیل میں سے بھی کئی گاؤں انہوں نے مروت کے طور پر بعض تفرقہ زدہ مسلمان رئیسوں کو دے دئیے تھے جو اب تک ان کے پاس ہیں۔ غرض وہ اس طوائف الملوکی کے زمانہ میں اپنے نواح میں ایک خود مختار رئیس تھے۔ ہمیشہ قریب پانسو آدمی کے یعنی کبھی کم اور کبھی زیادہ ان کے دسترخوان پر روٹی کھاتے