اس مباحثہ کے وقت سے ہے جو ۱۸۹۳ ؁ء میں موسم گرما میں ہوا تھا۔ میں نے اس مباحثہ میں بڑا بھاری حصہ لیا تھا۔ یہ مباحثہ اس میں اور ایک بڑے بھاری عیسائی عبداللہ آتھم کے مابین ہوا ۔جو مر گیا ہے۔ میں میر مجلس تھا۔ اور دو موقعوں پر مسٹر آتھم کی جگہ بطور مباحث کے بیٹھاؔ تھا۔ مرزا صاحب کو بہت ہی رنج ہوا تھا۔ اس کے بعد اس نے ان تمام کی موت کی پیش گوئی کی جنہوں نے اس مباحثہ میں حصہ لیا تھا اور میرا حصہ بہت ہی بھاری تھا۔ اس وقت سے اس کا سلوک میرے ساتھ بہت ہی مخالفانہ رہا ہے۔ اس مباحثہ کے بعد خاص دلچسپی کا مرکز مسٹر آتھم رہا۔ چار الگ کوششیں اس کی جان لینے کے لئے کی گئیں۔ اس کی موت کی مقرر کردہ میعاد کے آخری دو ماہ میں خاص پولیس کا پہرہ دن رات فیروزپور میں رکھا گیا۔ اسے امرتسر سے انبالے اور انبالے سے فیروزپور بھاگنا پڑا۔ ان کوششوں کے باعث سے جو اس کی جان لینے کے لئے کی گئیں{ اور یہ کوششیں عام طور پر مرزا صاحب سے منسوب کی گئی ہیں۔ اس کی موت پرانے کاغذات سے جو اب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے اور ان کے ساتھ قریباً دو سو آدمی ان کے توابع اور خدام اور اہل و عیال میں سے تھے اور وہ ایک معزز رئیس کی حیثیت سے اس ملک میں داخل ہوئے اور اس قصبہ کی جگہ میں جو اس وقت ایک جنگل پڑا ہوا تھا جو لاہور سے تخمیناً بفاصلہ پچاس کوس بگوشۂ شمال مشرق واقع ہے فروکش ہوگئے جس کو انہوں نے آباد کر کے اس کا نام اسلام پور رکھا التوحید یا ابناء الفارس یعنی توحید کو پکڑو توحید کو پکڑو اے فارس کے بیٹو۔ پھر دوسرا الہامؔ میری نسبت یہ ہے لوکان الایمان معلقًا بالثریّا لنا لہ رجل من فارسیعنی اگر ایمان ثریا سے معلق ہوتا تو یہ مرد جو فارسی الاصل ہے وہیں جاکر اس کو لے لیتا۔ اور پھر ایک تیسرا الہام میری نسبت یہ ہے انّ الذین کفروا ردّ عَلَیْھِم رجل من فارس شکر اللّٰہ سَعیہ۔ یعنی جو لوگ کافر ہوئے اس مرد نے جو فارسی الاصل ہے ان کے مذاہب کو رد کر دیا۔ خدا اس کی کوشش کا شکرگذار ہے۔ یہ تمام الہامات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے آباء اولین فارسی تھے۔ والحق ما اظھرہ اللّٰہ۔ منہ