بعداؔ لت اے ای مارٹینو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر
مستغیث قیصرہ ہند
زیر دفعہ ۱۰۷
مستغاث الیہ میرزا غلام احمد صاحب قادیاں تحصیل بٹالہ
اظہار ڈاکٹر مارٹن کلارک
ترجمہ از انگریزی
میں میڈیکل مشنری ہوں اور امرتسر میں رہتا ہوں عبدالحمید نے میرے پاس ۱۵؍جولائی کو آکر بیان کیا کہ میں بٹالہ کا برہمن ہوں۔ مجھے غلام احمد قادیانی نے مسلمان کیا تھا۔ اور میں اس کے پاس سات سال طالب علم ہو کر رہا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ وہ بہت بُرا آدمی ہے۔ اور اب اس کو چھوڑ کر میں عیسائی ہونا چاہتا ہوں۔ میں نے اس کو داخل کرلیا۔ اس کی کہانی مجھے قرین قیاس نہ معلوم ہوئی۔ میں نے اس کے متعلق تحقیق کرنی شروع کی اور مجھے معلوم ہوگیا کہ یہ کہانی
واقعات پڑھنے کے وقت نہایت شوق سے اس شخص کے سوانح کو پڑھنا شروع کرتا ہے اور دل میں جوش رکھتا ہے کہ اس کے کامل حالات پر اطلاع پاکر اس سے کچھ فائدہ اٹھائے۔ تب اگر ایسا اتفاق ہو کہ سوانح نویس نے نہایت اجمال پر کفایت کی ہو اور لائف کے نقشہ کو صفائی سے نہ دکھلایا ہو تو یہ شخص نہایت ملول خاطر اور منقبض ہو جاتا ہے۔ اور بسا ؔ اوقات اپنے دل میں ایسے سوانح نویس پر اعتراض بھی کرتا ہے اور درحقیقت وہ اس اعتراض کا حق بھی رکھتا ہے کیونکہ اس وقت نہایت اشتیاق کی وجہ سے اس کی مثال ایسی ہوتی ہے کہ جیسے ایک بھوکے کے آگے خوان نعمت رکھا جائے اور معاً ایک لقمہ کے اٹھانے کے ساتھ ہی اس خوان کو اٹھا لیا جائے۔ اس لئے ان بزرگوں کا یہ فرض ہے جو سوانح نویسی کے لئے قلم اٹھاویں کہ اپنی کتاب کو مفید عام اور ہردلعزیز اور مقبولِ اَنام بنانے کے لئے نامور انسانوں کے سوانح کو صبر اور فراخ حوصلگی کے ساتھ اس قدر بسط سے لکھیں اور ان کی لائف کو ایسے طور سے مکمل کر کے دکھلاویں کہ اس کا پڑھنا ان کی ملاقات