ہمیں افسوس ہے کہ ان ناپاک اور دل آزار کلمات کو محض اس وجہ سے ہمیں حکّام پر ظاہر کرنا پڑا کہ ڈاکٹر کلارک نے بعض معمولی اور نرم الفاظ ہمارے عدالت میں پیش کر کے یہ شکایت کی کہ ’’ایسے سخت الفاظ سے ہم پر حملہ کیا جاتا ہے‘‘۔ اور چونکہ صاحب مجسٹریٹ ضلع کو معلوم نہیں تھا کہ حضرات پادری صاحبان نے سخت الفاظ کے استعمال میں کہاں تک نوبت پہنچائی ہوئی ہے اور بباعث نہ لئے جانے ہمارے جواب کے پادری صاحبوں کے سخت الفاظ پر انہیں کچھ بھی اطلاع نہ تھی اس لئے ان کو یہ دھوکہ لگا کہ گویا ہم نے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔ اور انہوں نے خیال کیا کہ گویا درحقیقت ہماری طرف سے سخت الفاظ استعمال میں آتے ہیں۔ اور اسی دھوکہ کی بنا پر ان کو نوٹس بھی لکھنا پڑا۔ اور اگر ہمارے جواب تک نوبت پہنچتی تو ہرگز ممکن نہ تھا کہ صاحب بہادر پادری صاحبوں کے الفاظ کے مقابل پر ہمارے الفاظ کو سخت قرار دیتے۔ کیونکہ سختی نرمی ایک ایسی شَے ہے کہ اس کی حقیقت مقابلہ سے ہی معلوم ہوتی ہے۔ خاص کر مذہبیؔ بحثوں کی کتابوں میں تو کسی شخص کی سختی یا نرمی کی نسبت رائے قائم نہیں ہو سکتی جب تک اس کے مقابل کی کتاب نہ دیکھی جائے۔ اگر صرف مخالف خیالات کو رد کرنے کا نام سختی ہو تو میں خیال نہیں کر سکتا کہ دنیا میں کوئی مذہبی مباحثات کی کتاب ایسی پائی جائے جو اس قسم کی سختی سے خالی ہو۔ بلکہ توہین اور سختی تو یہ ہے کہ کسی قوم کے مقتدا کو نہایت درجہ کی بے عزتی کے ساتھ یاد کرنا اور ناپاک افعال اور رذیل اخلاق کی تہمتیں اس پر لگانا۔ سو یہ طریق حضرات پادری صاحبان اور آریہ صاحبوں نے اختیار کر رکھا ہے۔ اور بے اصل تہمتیں سراسر افترا کے طور پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے ہیں جو کسی مستند اور مسلّم الثبوت اسلامی کتاب پر مبنی نہیں ہیں۔ اس سے جس قدر مسلمانوں کا دل دکھتا ہے اس کا کون اندازہ کر سکتا ہے؟! اور ہم لوگ پادری صاحبوں کے مقابل پر کیا سختی کر سکتے ہیں کیونکہ جس طرح ان کا فرض