غزنوؔ ی گروہ
مولوی عبدالجبار صاحب نے فتوےٰ مذکورہ بالا پر بصفحہ ۲۰۰ دستخط کرتے ہوئے ذیل کے الفاظ لکھے ہیں۔
’’ان امور کا مدعی رسول خدا کا مخالف ہے۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں میں سے جن کے حق میں رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ آخر زمانہ میں دجّال کذّاب پیدا ہوں گے۔۔۔۔۔۔ ان سے اپنے آپ کو بچاؤ تم کو گمراہ نہ کردیں اور بہکا نہ دیں۔ اس (قادیانی) کے چوزے (اتباع) ہنود اور نصاریٰ کے مخنّث ہیں‘‘۔
احمد ابن عبداللہ غزنوی۔ بصفحہ ۲۰۱
’’قادیانی کے حق میں میرا وہ قول ہے جو ابن تیمیہ کا قول ہے جیسے تمام لوگوں سے بہتر انبیاء علیہم السلام ہیں ویسے ہی تمام لوگوں سے بدتر وہ لوگ ہیں جو نبی نہ ہوں اور نبیوں سے مشابہ بن کر نبی ہونے کا دعویٰ کرے۔۔۔۔۔۔ یہ بدترین خلائق ہے۔ تمام لوگوں سے ذلیل تر۔ آگ میں جھوکا جائے گا‘‘۔
عبدالصمد ابن عبداللہ غزنوی۔ بصفحہ ۲۰۲
’’غلام احمد قادیانی کجر و بلید فاسد ہے۔ اور رائے کھوٹی۔ گمراہ ہے۔ لوگوں کو گمراہ کرنے والا۔ چھپا مرتد۔ بلکہ وہ اپنے اس شیطان سے زیادہ گمراہ جو اس کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ یہ شخص ایسے اعتقاد پر مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔ اور نہ یہؔ اسلامی قبرستان میں دفن ہو۔