قرآن شریف کی نسبت۔ جب بسم اللہ الرحمن الرحیم کلام مبہم ہے تو کیا چوری زناکاری جھوٹ اور گناہوں کا آغاز خدا کے نام پر کیا جاوے! ۶۸۸۔ یہ سب باتیں (یعنی قرآن کی باتیں) طفلانہ ہیں۔۔۔ سچی نہیں۔ ۶۹۵۔ محمد نے یہ بات (آیت قرآن شریف) اپنے مطلب کے لئے گھڑی تھی۔ ۷۰۷۔ ایسی تعلیم (تعلیم القرآن) کوئے میں پڑے۔ قرآن جیسی کتاب محمد صاحب جیسے رسول قرآنی اللہ جیسے خدا اور اسلام جیسے مذہب سے دنیا کو سراسر نقصان ہے ان کا نہ ہونا ہی اچھا ہے۔ اس قسم کے بیہودہ مذہب سے کنارہ کش ہو کر داناؤں کو وید کے احکام ماننا چاہیے۔ ۷۰۹۔ اس کا مصنف ایک نہیں بلکہ بہت سے آدمی ہیں۔ ۷۱۴۔ قرآن میں کہیں اونچے کہیں دھیمے پکارنے کا حکم ہے۔ ایک دوسرے کی متضاد باتیں۔ سودائیوں کی بکواس کی مانند ہوتی ہیں۔ ۷۱۵۔ یہ کلام اللہ نہیں۔ کسی مکّار کا کلامؔ ہے۔ ورنہ اس میں اس قسم کی واہیات باتیں کیوں ہیں۔ ۷۲۰۔ اس کی آیتیں محسن کشی کی تعلیم دینے والیں اس کا مصنف علوم طبعی سے ناواقف۔ ۷۲۹۔ اس میں لغو اور جاہلانہ باتیں ہیں اس کے پیرو بے علم ہیں۔ ۷۳۱۔ ایسی فحش باتیں کلام اللہ میں تو کجا کسی شائستہ انسان کی تصنیف میں بھی نہیں۔ ۷۳۲۔ قرآن کلام اللہ تو کجا کسی سمجھدار آدمی کی بھی تصنیف نہیں۔ ۷۵۳۔ اسی تعلیم (تعلیم قرآن شریف) نے مسلمانوں کو، غدر مچانے والا، سب کو ایذا پہنچانے والا، خود غرض بے رحم بنا دیا۔ ۷۵۷۔ قرآن کلام اللہ، کلام اللہ تو کجا بلکہ کسی عالم نیکوکار کا بھی کلام نہیں۔ ۷۶۱۔ خلاف وضع فطرت گناہ عظیم کی بنا یہ (قرآنی تعلیم) ہے۔
نسخہ خبط احمدیہ مصنفہ لیکھرام پشاوری مطبوعہ ۱۸۸۸ ء
(اس شخص کے اصلی دل آزار فقروں کو چھوڑ کر یہاں نہایت اختصار کے ساتھ لکھا جاتا ہے کہ اس نے ہمارے خدا ہمارے سیّد و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اسلام اور ہماری کتاب کی نسبت کیسے کیسے دلخراش الفاظ استعمال کئے ہیں)۔