کنشت زشت است و بانیش کذب سرشت وجود عصیاں درگو عدم رود۔ ۷۔ ۱۳ ۵۷۔ ۶۰ ۱۱۹۔ ۳۰۸ ۔۳۱۶ ۳۵۵۔۳۶۶ قرآنؔ شریف کی نسبت معنیش باشد ضلالت سربسر از ضلالت می دہد قرآن خبر از ضلالت بار دارد ایں شجر بہتراست او را بریدن از تبر ہذیان۔ مجہول عفریت کا آراستہ کردہ کلام۔ محمد کی تراشیدہ باتیں۔ ترہات باطلہ۔ مزخرافات۔ تقویم پارینہ۔ قرآن و حدیث میں لواطت۔ زنا۔ قماربازی۔ شراب خوری بھنگ نوشی کی تعلیم ہے۔۔۔۔۔۔ بانی قرآن کذاب حالش مثل مست خراب کہ دمش مطابقت قدم ندارد۔ قرآنی اعمال کو مثمر نجات سمجھنا اور شیطانی افعال کے ساتھ داخل بہشت ہونا برابر ہے۔ اقوال بانی قرآن و حدیث برمثال مقال مسیلمہ کذاب و مست و خراب۔ قرآن بافتہ نادانی ژولیدہ بیانے سخت ہذیانے۔ کج مج زبانے۔ ہیچ مدانے۔ غباوت نشانے۔ سُست تبیانے۔ قرآن کی نقلوں میں عقل کو دخل نہیں۔ وہ یک قلم باطل۔ اس کا ماننے والا صدق و صفا سے عاطل۔ برسیپارہ صفحہ قرآن فوارہ بول مے زند۔ ستیارتھ پرکاش مصنفہ پنڈت دیانند ۱۸۷۵ ؁ء ماخوذ از ترجمہ ستیارتھ پرکاش مطبع کشن چند کمپنی لاہور اللہ تعالیٰ کی نسبت۔ بے رحم۔ شیطان سے بھی بڑھ کر شیطنت کرنے والا۔۶۸۳ عورتوں میں غلطاں۔ ۶۸۵۔ فرشتوں کو دھوکہ دے کر بڑائی کرنے والا اس لئے ریاکار۔ لاف زن۔ ہمہ دان نہیں۔ بے قدرت۔ جب ایک کافر شیطان نے خدا کے چھکے چھوڑا دئیے تو کروڑوں کافروں کے آگے اس کی پیش کیا جائے گی۔ ۶۸۶۔ کم علم کم ہمت۔ ۶۸۷۔ فریبی جھوٹا۔ ۶۹۹۔ دوالیہ۔ ۷۰۰۔ بھان متی کا تماشا کرنے والا جس کو عقلمند دور سے سلام کریں گے۔ ۷۰۱۔ ۷۔ ۱۳ ۵۷۔ ۶۰ ۱۱۹۔ ۳۰۸ ۔۳۱۶ ۳۵۵۔۳۶۶