ترکوں سے محبت کرتے ہیں کہ ان کی خیر میں ان کے دین و دنیا کی خیر ہے۔ ورنہ ترکوں کا کوئی خاص احسان مسلمانان ہند پر نہیں بلکہ ہم کو سخت گلہ ہے کہ ہمارے پچھلی صدی کے عالمگیر کی تباہی میں جبکہ مرہٹوں و سکھوں کے ہاتھ سے مسلمانان ہند برباد ہو رہے تھے ہماری کوئی خبر انہوں نے نہیں لی۔ اس شکریہ کی مستحق صرف سرکار انگریزی ہے جس کی گورنمنٹ نے مسلمانوں کو اس سے نجات دلائی تو ہماری ہمدردی کی وہی خاص وجہ ہے جو اوپر ذکر کی گئی۔
اور اس کو خیال کر کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسی سخت ترین مصیبت کے وقت تو مسلمانوں کے ایک سچے راہ نما کا یہ کام ہوتا کہ وہ عاجزی سے گڑگڑا کر خدا کے حضور میں اس تباہی سے بیڑے کو بچاتا۔ کیا حضرت نوح کے فرزند سے زیادہ ترک گنہگار تھے تو بجائے اس کے کہ ان کے حق میں خدا کے حضور شفاعت کی جاتی ہے نہ الٹا ہنسی سے ایسی بات بنائی جاتی۔
(۳) و نیز یہ کہ حضرت والا نے حضرت مسیح کے بارے میں اپنی تصانیف میں سخت حقارت آمیز الفاظ لکھے ہیں جو ایک مقبول بارگاہِ الٰہی کے حق میں شایانِ شان نہ تھے جس کو خداوند اپنی روح و کلمہ فرمائے جن کے حق میں یہ خطاب ہو 33 ۔۱ پھر اس کی توہین اور اہانت کیونکر ہو سکتی۔
یہ باتیں میرے دل میں بھری تھیں اور ان کی تجسس کے واسطے میں پھر کوشش کر رہا تھا کہ یہ کہاں تک صحیح ہیں کہ ناگاہ حضور کا اشتہار ترکی سفیر کے بارے میں جو نکلا پیش ہوا تو بیساختہ میرے منہ سے (سوا کسی اور کلام کے) مثنوی کا بیت نکل گیا۔ جس پر آپ کو رنج ہوا۔ (اور رنج ہونا چاہیے تھا)۔
(۱)ؔ رسالت کے دعوے کے بارے میں مجھ کو خود ازالہ اوہام کے دیکھنے سے و نیز آپ کی وہ روحانی اور مردہ دلوں کو زندہ کرنے والی تقریر سے جو جلسۂ مذاہب لاہور میں پیش ہوئی میری تسلی ہوگئی جو محض افترا و بہتان ذات والا پر کسی نے باندھا۔
(۲) بابت ترکوں کے آپ کے اسی اشتہار (میرے عرضی دعویٰ کے) میری تسلی ہوگئی۔