خط و کتابت اس عرصہ میں جو کچھ مکرمی خواجہ غلام فرید صاحب چشتی پیر نواب صاحب بہاولپور سے اس عاجز کی خط و کتابت ہوئی محض بہ نیّت فائدہ عام وہ تمام خطوط جانبین چھاپ دئیے جاتے ہیں شاید کسی بندہ خداکو اس سے فائدہ ہو وَ اِنَّمَا الاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔ خواجہ صاحب کا وہ پہلا خط جو ضمیمہ انجام آتھم کے ۳۹ صفحہ پر طبع ہوا من فقیر بَاب اللّہ غلام فرید سجّادہ نشین الٰی جناب میرزا غُلام احمد صاحب قادیَانِیْ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم الحمدُ للّہ رب الارباب والصّلوۃ علٰی رسُولہ الشفیع بیوم الحساب و علٰی اٰلہ و الاصحاب والسّلام علیکم و علی من اجتھدوا صاب اما بعد قد ارسلت الیّ الکتاب و بہ دعوت الَی المباھلۃ و طالبت بالجواب و انّی و ان کنت عدیم الفرصۃ و لکن رایت جزء ہ من حسن الخطاب و سوق العتاب اعلم یا اعزا الاحباب انّی من بدوحالک واقف علی مقام تعظیمک لنیل التواب وماجرت علیٰ لسانی کلمۃ فی حقک الا بالتبجیل و رؔ عایۃ الاداب و الان اطلع Ruhani Khazain Volume 12. Page: 89 روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱۲- سِراج مُنِیر: صفحہ 89 http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=12#page/89/mode/1up لک بانی معترف بصَلاح حَالک بلا ارتیاب و موقن بانک من عباد اللہ الصلحین و فی سعیک المشکور مثاب وقد اوتیت الفضل من الملک الوھاب و لک ان تسئل من اللّٰہ تعالی خیر عاقبتی و ادعولکم حسن ماب ولو لا خوف الاطناب لازددت فی الخطاب۔ والسّلام علی من سلک سبیل الصواب۔ فقط ۲۷ رجب ۱۳۱۴ھ من مقام چاچڑاں۔ فقیرغلام فرید خادم الفقرا ۱۳۰۱ مہر ترجمہ۔ تمام تعریفیں اس خدا کیلئے ہیں جو رب الارباب ہے اور درود اس رسول مقبول پر جو یوم الحساب کا شفیع ہے اور نیز اس کے آل اور اصحاب پر اور تم پر سلام اور ہر ایک پر جو راہ صواب میں کوشش کرنے والا ہو۔ اس کے بعد واضح ہو کہ مجھے آپ کی وہ کتاب پہنچی جس میں مباہلہ کیلئے جواب طلب کیا گیا ہے اور اگرچہ میں عدیم الفرصت تھا تاہم میں نے اس کتاب کے ایک جز کو حسن خطاب اور طریق عتاب پر مشتمل تھی پڑھی ہے۔ سو اے ہر ایک حبیب سے عزیز تر تجھے معلوم ہو کہ میں ابتداء سے تیرے لئے تعظیم کرنے کے مقام پر کھڑا ہوں تا مجھے ثواب حاصل ہو۔ اور کبھی میری زبان پر بجز تعظیم اور تکریم اور رعایت آداب کے تیرے حق میں کوئی کلمہ جاری نہیں ہوا اور اب میں تجھے مطلع کرتا ہوں کہ میں بلاشبہ تیرے نیک حال کا معترف ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ تو خدا کے صالح بندوں میں سے ہے اور تیری سعی عنداللہ قابل شکر ہے جس کا اجر ملے گا اور خدائے بخشندہ بادشاہ کا تیرے پر فضل ہے میرے لئے عاقبت بالخیر کی دعا کر اور میں آپ کے لئے انجام خیر و خوبی کی دعا کرتا ہوں۔ اگر مجھے طول کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں زیادہ لکھتا۔ والسلام علی من سلک سبیل الصواب۔ اس کا جواب بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیْم نحمدُہٗ و نصلی علٰی رسُولہ الکرِیْم من عبداللّٰہ الاحد غلام احمد عافاہ اللّہُ و ایّد الی الشیخ الکریم السعید حبی فی اللّٰہ غلام فرید۔ السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ۔ امّا بعد فاعلم ایھا العبد الصالح قد بلغنی منک مکتوب ضُمّخ بعطرؔ الاخلاص