غیرؔ عورتوں کے دیکھنے سے اپنے تئیں بچانا پڑتا ہے۔ شراب اور ہر ایک نشے سے اپنے تئیں دور رکھنا پڑتا ہے۔ خدا کے مواخذہ سے خوف کر کے حقوق عباد کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ اور ہر ایک سال میں برابر تیس یا انتیس روز خدا تعالیٰ کے حکم سے روزہ رکھنا پڑتا ہے اور تمام مالی و بدنی و جانی عبادت کو بجا لانا پڑتا ہے۔ پھر جب ایک بدبخت جو پہلے مسلمان تھا عیسائی ہوگیا تو ساتھ ہی یہ تمام بوجھ اپنے سر پر سے اتار لیتا ہے۔ اور سونا اور کھانا اور شراب پینا اور اپنے بدن کو آرام میں رکھنا اس کا کام ہوتا ہے اور یکدفعہ تمام اعمال شاقہ سے دستکش ہو جاتا ہے اور حیوانوں کی طرح بجز اکل و شرب اور ناپاک عیاشی کے اور کوئی کام اس کا نہیں ہوتا۔ پس اگر یسوع کے گذشتہ بالا فقرہ کے یہی معنے ہیں کہ میں تمہیں آرام دوں گا تو بیشک ہم قبول کرتے ہیں کہ درحقیقت عیسائیوں کو اس چند روزہ سفلی زندگی میں بوجہ اپنی بے قیدی کے بہت ہی آرام ہے یہاں تک کہ ان کی دنیا میں نظیر نہیں۔ وہ مکھی کی طرح ہر ایک چیز پر بیٹھ سکتے ہیں اور وہ خنزیر کی طرح ہر ایک چیز کھا سکتے ہیں۔ ہندو گائے سے پرہیز کرتے ہیں اور مسلمان سؤر سے مگر یہ بلانوش دونوں ہضم کر جاتے ہیں۔ سچ ہے۔ ’’عیسائی باش ہرچہ خواہی بکن‘‘۔ سؤر کو حرام ٹھہرانے میں توریت میں کیا کیا تاکیدیں تھیں یہاں تک کہ اس کا چھونا بھی حرام تھا اور صاف لکھا تھا کہ اس کی حرمت ابدی ہے۔ مگر ان لوگوں نے اس سؤر کو بھی نہیں چھوڑا جو تمام نبیوں کی نظر میں نفرتی تھا۔ یسوع کا شرابی کبابی ہونا تو خیر ہم نے مان لیا مگر کیا اس نے کبھی سؤر بھی کھایا تھا؟ وہ تو ایک مثال میں بیان کرتا ہے کہ ’’تم اپنے موتی سؤروں کے آگے مت پھینکو‘‘۔ پس اگر موتیوں سے مراد پاک کلمے ہیں تو سؤروں سے مراد پلید آدمی ہیں۔ اس مثال میں یسوع صاف گواہی دیتا ہے کہ سؤر پلید ہے کیونکہ مشبّہ اور مشبّہ بہٖ میں مناسبت شرط ہے۔ غرض عیسائیوں کا آرام جو ان کو ملا ہے وہ بے قیدی اور اباحت کا آرام ہے۔