خوشیؔ سے تین دن تک اکثر احباب زمین پر سوتے رہے۔ جس اخلاص اور محبت اور صدق دل کے ساتھ میری جماعت کے معزز اصحاب نے اس خوشی کی رسم کو ادا کیا میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ میں بیان کر سکوں۔
میں اپنے پہلے بیان میں یہ ذکر بھول گیا تھا کہ اس تقریب جلسہ میں ۲۲؍جون ۱۸۹۷ء کو ہماری جماعت کے چار مولوی صاحبان نے اٹھ کر عام لوگوں کو جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی اطاعت اور سچی وفاداری کی ترغیب دی۔ چنانچہ پہلے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب نے اٹھ کر اس بارے میں بہت تقریر کی پھر اخویم حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب بھیروی نے تقریر کی۔ اور پھر بعد انکے اخویم مولوی برہان الدین صاحب جہلمی اٹھے اور انہوں نے پنجابی میں تقریر کرکے عام لوگوں کو اطاعت ملکہ معظمہ کیلئے بہت ترغیب دی۔ بعد ان کے مولوی جمال الدین صاحب سیدوالہ ضلع منٹگمری نے اٹھ کر پنجابی میں تقریر کی۔ مگر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام جن کو نادان مسلمان اب تک خونریز کی صورت میں انتظار کر رہے ہیں وہ درحقیقت فوت ہوگئے ہیں۔ یعنی ایسے خیال کہ کسی وقت مہدی اور مسیح کے آنے سے مسلمان خونریزیاں کریں گے صحیح نہیں ہے اور عام لوگوں کو نیک بختی اور نیک چلنی کی ترغیب دی گئی۔ اور اس مبارک موقعہ پر ساٹھ ستر آدمیوں نے ہر ایک گناہ اور بدچلنی سے رو رو کر توبہ کی یہاں تک کہ انکی گریہ و زاری سے مسجد گونج رہی تھی۔
اب ذیل میں وہ دعائیں چھ۶ زبانوں میں درج کی جاتی ہیں:
الراقم میرزا غلام احمد قادیانی ۲۳؍ جون ۱۸۹۷ء
دعا اور آمین اردو زبان میں
اے مخلصان باصدق و صفا و محبّان بے ریا جس امر کے لئے آپ سب صاحبان تکلیف فرما ہو کر اس عاجز کے پاس قادیان میں پہنچے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کے احسانات کو یاد کر کے ان کی سلطنت