ایکؔ بڑی دعوت کا سا6مان ہوا۔ اور اس قصبہ کے غربا اور درویش دعوت کے لئے بلائے گئے اور جیسا کہ شادیوں کے موقع پر کھانے پکائے جاتے ہیں ایسا ہی بڑے تکلف سے کھانے طیّار ہوئے اور تمام حاضرین کو کھلائے گئے۔ اس روز تین سو سے زیادہ آدمی تھے جو دعوت میں شریک ہوئے۔ پھر ۲۲؍ جون کی رات کو چراغاں ہوئی اور کوچوں اور گلیوں اور مسجدوں اور گھروں میں شام ہوتے ہی نظرگاہ عام پر چراغ روشن کرائے گئے اور غریبوں کو اپنے پاس سے تیل دیا گیا۔ اور علاوہ اس کے اظہار مسرت کے لئے عام دعوت میں لوگوں کو شامل کیا گیا۔
غرض یہ مبارک جلسہ تمام احباب کا جنہوں نے بڑی خوشی سے باہم چندہ کر کے اس کا اہتمام کیا۔ ۲۰؍ جون ۱۸۹۷ء سے شروع ہوا اور ۲۲؍ جون ۱۸۹۷ء کی شام تک بڑی دھوم دھام سے اس کا اہتمام رہا۔ چنانچہ پہلے روز میں تمام جماعت نے جو ہمارے مریدوں کی جماعت ہے جن کے ذیل میں نام درج ہوں گے بڑے صدق دل سے حضور قیصرہ اور خاندان شاہی اور برٹش گورنمنٹ کے حق میں اقبال اور شمول فضل الٰہی کی دعائیں کیں۔ اور پھر جیسا کہ بیان کیا گیا وقتاً فوقتاً تمام مراسم ادا کئے گئے۔ اور خداتعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری جماعت نے جس میں معزز ملازم سرکاری بھی شامل تھے ایسے صدق دل اور محبت اور پوری ارادت اور پورے شوق اور انبساط سے دعائیں کیں اور شکرگزاری ظاہر کی اور اہتمام غرباء کی دعوت میں چندے دئیے اور ایک رقم کثیر باہمی چندہ سے جمع کر کے بڑی سرگرمی اور مستعدی اور دلی خوشی سے تمام تجاویز جنرل کمیٹی کو انجام تک پہنچایا کہ اس سے بڑھ کر خیال میں نہیں آ سکتا۔
اور وہ تقریر جو دعا اور شکرگذاری جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند میں سنائی گئی جس پر لوگوں نے بڑی خوشی سے آمین کے نعرے مارے وہ چھ زبانوں میں بیان کی گئی تا ہمارے پنجاب کے ملک میں جس قدر مسلمان