دلیؔ مدعا کے پورا کرنے کیلئے جرأت ہوئی ہے۔ میں اس بات کو ظاہر کرنا بھی اپنی روشناسی کرانے کی غرض سے ضروری دیکھتا ہوں کہ میں حضرت ملکہ معظمہ کی رعایا میں سے پنجاب کے ایک معزز خاندان میں سے ایک شخص ہوں جو میرزا غلام احمد قادیانی کے نام سے مشہور ہوں۔ میرے والد کا نام میرزا غلام مرتضیٰ اور ان کے والد کا نام میرزاعطا محمد اور ان کے والد کا نام میرزا گل محمد تھا۔ یہ آخرالذکر اس زمانہ سے پہلے والیان ملک میں سے تھے۔ مجھے خدا نے جیسا کہ آگے بیان ہوگا اپنی خدمت میں لے لیا اور جیسا کہ وہ اپنے بندوں سے قدیم سے کلام کرتا آیا ہے مجھے بھی اس نے اپنے مکالمہ اور مخاطبہ کا شرف بخشا۔ اور مجھے اس نے نہایت پاک اصولوں پر جو نوع انسان کیلئے مفید ہیں قائم کیا۔ چنانچہ منجملہ ان اصولوں کے جن پر مجھے قائم کیا گیا ہے ایک یہ ہے کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ دنیا میں جس قدر نبیوں کی معرفت مذہب پھیل گئے ہیں اور استحکام پکڑ گئے ہیں اور ایک حصۂِ دنیا پر محیط ہوگئے ہیں اور ایک عمر پاگئے ہیں اور ایک زمانہ ان پر گذر گیا ہے ان میں سے کوئی مذہب بھی اپنی اصلیت کے رو سے جھوٹا نہیں اور نہ ان نبیوں میں سے کوئی نبی جھوٹا ہے۔ کیونکہ خدا کی سنت ابتدا سے اسی طرح پر واقع ہے کہ وہ ایسے نبی کے مذہب کو جو خدا پر افترا کرتا ہے اور خدا کی طرف سے نہیں آیابلکہ دلیری سے اپنی طرف سے باتیں بناتا ہے کبھی سرسبز ہونے نہیں دیتا۔ اور ایسا شخص جو کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں۔ حالانکہ خدا خوب جانتا ہے کہ وہ اس کی طرف سے نہیں ہے۔ خدا اس بے باک کو ہلاک کرتا ہے اور اس کا تمام کاروبار درہم برہم کیا جاتا ہے۔ اور اس کی تمام جماعت متفرق کی جاتی ہے۔ اور اس کا پچھلا حال پہلے سے بدتر ہوتا ہے۔ کیونکہ اس نے خدا پر جھوٹ بولا۔ اور دلیری سے خدا پر