واضح رہے کہ اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سخت بے ادبیاں کی ہیں جن کے تصور سے بھی بدن کانپتا ہے۔ اس کی کتابیں عجیب طور کی تحقیر اور توہین اور دشنام دہی سے بھری ہوئی ہیں کون مسلمان ہے جو ان کتابوں کو سنے اور اس کا دل اور جگر ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو۔ با ایں ہمہ شوخی و خیرگی یہ شخص سخت جاہل ہے عربی سے ذرہ مس نہیں بلکہ دقیق اردو لکھنے کا بھی مادہ نہیں اور یہ پیشگوئی اتفاقی نہیں بلکہ اس عاجز نے خاص اسی مطلب کے لئے دعا کی جس کا یہ جواب ملا اور یہ پیشگوئی مسلمانوں کے لئے بھی نشان ہے کاش وہ حقیقت کو سمجھتے اور ان کے دل نرم ہوتے۔ اب میں اسی خدائے عزّوجلّ کے نام پر ختم کرتا ہوں جس کے نام سے شروع کیا تھا۔ والحمد للّٰہ والصلوۃ والسّلام علٰی رسولہ محمّد ا نِلمصطفی افضل الرسل و خیر الوریٰ سیّدنا و سیّد کل ما فی الارض والسما۔
خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان
ضلع گورداسپورہ (۲۰؍ فروری ۱۸۹۳ء)
چہارؔ م۔ جواب اعتراض مندرجہ ٹائٹل پیج برکات الدعا معہ خبر مندرجہ حاشیہ صفحہ ۴ ٹائٹل پیج۔
نمونہ دعائے مستجاب
انیس ہند میرٹھ اور ہماری پیشگوئی پر اعتراض
اس اخبار کا پرچہ مطبوعہ ۲۵؍ مارچ ۱۸۹۳ء جس میں میری اس پیشگوئی کی نسبت جو لیکھرام پشاوری کے بارے میں میں نے شائع کی تھی کچھ نکتہ چینی ہے مجھ کو ملا۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض اور اخباروں پر بھی یہ کلمۃ الحق شاق گذرا ہے۔ اور حقیقت میں میرے لئے خوشی کا مقام ہے کہ یوں خود مخالفوں کے ہاتھوں اس کی شہرت اور اشاعت ہو رہی ہے سو میں اس وقت اس نکتہ چینی کے جواب میں صرف اس قدر لکھنا کافی سمجھتا ہوں کہ جس طور اور طریق سے خدا تعالیٰ نے چاہا اسی طور سے کیا میرا اس میں دخل نہیں۔ ہاں یہ سوال کہ ایسی پیشگوئی مفید نہیں ہوگی اور اس میں شبہات باقی رہ جائیں گے اس اعتراض کی نسبت میں خوب سمجھتا ہوں کہ یہ پیش از وقت ہے۔ میں اس بات کا خود اقراری ہوں اور اب پھر اقرار کرتا ہوں کہ اگر جیسا کہ معترضوں نے خیال فرمایا ہے پیشگوئی کا ماحصل آخرکار