ہماراؔ مچلکہ بذریعہ عدالت لے سکے اور منہ پر مہر لگ جائے۔ کیا تم انسان ہویا حیوان ہو کہ اتنی موٹی بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ جس آتھم پر جو اکسٹرا اسٹنٹ بھی رہ چکا تھا ایسے ایسے سخت حملے ہوئے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ بقول تمہارے اس کو زہر دینے کا بھی ارادہ کیا گیا مگر اس نے عدالت کے ذریعہ سے خونخوار حریف کا کچھ بھی تدارک نہ کرایا۔ ایسے بدذات اور پلید طبع جنہوں نے زہر دینے کی تجویز کی اور ڈاکوؤں کی طرح تین مرتبہ اس پر سخت حملے کئے کیا ایسے خبیثوں کو چھوڑنا روا تھا۔ خدا کی *** اس شخص پر جس نے سانپ چھوڑا اور زہر دینے کی تجویز کی اور سوار اور پیا دے بندوقوں اور تلواروں اور نیزوں کے ساتھ بمقام لودیانہ اور فیروز پور آتھم کی کوٹھی پر بھیجے تا اس کو قتل کریں۔ اور اگر یہ بات صحیح نہیں تو پھر اس شخص پر ہزار *** جس نے ایسا بے بنیاد افتراکیا اور حق کو مخفی رکھنے کے لئے اور اپنے خوف کو چھپانے کیلئے یہ منصوبہ گھڑا۔ اسی قسم کے افتراؤں سے جن کو ہم نے بچشم خود دیکھ لیا ہم یقین رکھتے ہیں کہ اس عیسائی قوم میں سخت بد ذات اور شریر پیدا ہوتے ہیں اور بھیڑوں کے لباس میں اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں اور اصل میں شریر بھیڑیئے ہوتے ہیں۔ اور ایسی بدذاتی سے بھرے ہوئے جھوٹ بولتے ہیں اور افترا کرتے آئندہ دکھ اور مصیبت سے محفوظ رکھیں۔ جس کا نام رحیمیّت ہے۔ اور اعمال صالحہ کے بجا لانے پر جو عبادت اور صوم اور صلٰوۃ اور بنی نوع کی ہمدردی اور صدقہ اور ایثار وغیرہ ہے وہ مقام صالح عطا کرنا جو دائمی سرور اور راحت اور خوشحالی کا مقام ہے جس کا نام جزاء خیر از طرف مالک یوم الجزاء ہے۔ سو خدا نے ان ہر چہار صفات میں سے کسی صفت میں بھی انسان کے لئے بدی کا ارادہ نہیں کیا سراسر خیر اور بھلائی کا ارادہ کیا ہے لیکن جو شخص اپنی بدکاریوں اور بے اعتدالیوں سے ان صفات کے پرتوہ کے نیچے سے اپنے تئیں باہر کرے اور فطرت کو بدل ڈالے اس کے حق میں اسی کی شامت اعمال کی وجہ سے وہ صفات بجائے خیر کے شر کا حکم پیدا کرلیتے ہیں چنانچہ ربوبیت کا ارادہ فنا اور اعدام کے ارادہ کے ساتھ مبدل ہوجاتا ہے اور رحمانیت کا ارادہ غضب اور سُخط کی صورت میں ظاہر ہوجاتا ہے اور رحیمیت کا ارادہ انتقام اور سخت گیری کے رنگ میں جوش مارتا ہے اور جزاء خیر کا ارادہ سزا اور تعذیب کی صورت میں اپنا ہولناک چہرہ دکھاتا ہے۔ سو یہ تبدیلی خدا کی صفات میں انسان کی اپنی حالت کی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے